چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں منعقدہ 14ویں سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل لیگل فورم میں شرکت کرتے ہوئے عالمی عدالتی تعاون کو فروغ دینے اور پاکستان کے عدالتی اصلاحاتی ایجنڈے کو اجاگر کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: سپریم جوڈیشل کونسل اجلاس: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے خلاف پانچوں شکایات کی تفصیلات جاری
سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق یہ فورم 24 سے 26 جون 2026 تک روسی فیڈریشن میں منعقد ہوا جس میں دنیا بھر سے عدالتی رہنماؤں، قانونی ماہرین اور پالیسی سازوں نے شرکت کی۔
پاکستانی وفد میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کے علاوہ وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس اور روس میں پاکستان کے سفیر بھی شامل تھے۔
فورم کے موقع پر چیف جسٹس پاکستان نے مختلف ممالک کی اعلیٰ عدلیہ کے سربراہان سے دوطرفہ ملاقاتیں کیں جن کا مقصد عدالتی اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا اور عدالتی مکالمے کو وسعت دینا تھا۔
اعلامیے کے مطابق روسی فیڈریشن کی سپریم کورٹ کے نمائندوں کے ساتھ ایک اہم ملاقات بھی ہوئی جس میں دوطرفہ عدالتی تعاون کے لیے ایک فریم ورک قائم کرنے پر بات چیت کی گئی۔ مجوزہ تعاون میں عدالتی تبادلے، پیشہ ورانہ اور عدالتی تعلیم، قانونی تحقیق، عدالتی انتظامیہ، ڈیجیٹل تبدیلی اور بہترین تجربات کے تبادلے جیسے شعبے شامل ہیں۔
مزید پڑھیے: سپریم کورٹ: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو لطیف کھوسہ کا خط
فورم نے پاکستان کو اپنی جاری عدالتی اصلاحات اور جدید اقدامات پیش کرنے کا موقع بھی فراہم کیا، جن میں عدالتی نظام کی ڈیجیٹلائزیشن، نئی ٹیکنالوجیز کا ذمہ دارانہ استعمال، ادارہ جاتی مضبوطی اور انصاف تک رسائی بہتر بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔
اعلامیے کے مطابق ان ملاقاتوں اور مباحثوں کے دوران مختلف ممالک کے عدالتی نظاموں کو درپیش معاصر چیلنجز پر تجربات کا تبادلہ کیا گیا، جبکہ پاکستان نے عالمی بہترین روایات سے سیکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
فورم کے افتتاحی اجلاس اور دیگر نشستوں میں پاکستانی وفد نے عدالتی رہنماؤں، پالیسی سازوں، قانونی اسکالرز اور ماہرین قانون کے ساتھ تبادلہ خیال کیا جس سے عالمی قانونی برادری کے ساتھ پاکستان کے روابط مزید مضبوط ہوئے۔
مزید پڑھیں: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا ملکی نظام انصاف میں اصلاحات کے لیے اقوامِ متحدہ کے تعاون پر زور
سپریم کورٹ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس فورم میں شرکت نے عدالتی سفارتکاری، بین الاقوامی تعاون اور ایک آزاد، مؤثر، قابلِ رسائی اور ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ نظامِ انصاف کے فروغ کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان کے عزم کو مزید مستحکم کیا ہے۔














