وفاقی دارالحکومت کے علاقے نائنتھ ایوینیو پر پاک فضائیہ کے ایک انتہائی بہادر اور جری افسر، گروپ کیپٹن عاصم طارق، ایک خاتون کو اغوا اور تشدد سے بچاتے ہوئے فائرنگ کے نتیجے میں جامِ شہادت نوش کر گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق پاک فضائیہ کے فوجی افسر عاصم طارق اس وقت ڈیوٹی پر نہیں تھے اور اپنے والد کے ساتھ گاڑی میں سفر کر رہے تھے کہ انہوں نے سڑک پر ایک مجرمانہ کارروائی کو ہوتے دیکھا۔
Today, a daring PAF officer was passing by in a car with his father when he saw a girl being forcibly abducted on the road.
He could have looked away. He could have said it was not his duty. He could have waited for someone else to act.
He did not.
He got out, confronted the… pic.twitter.com/ejK3s8NssD
— Markhor Pakistan (@AabparaX) July 5, 2026
ایک ذمہ دار شہری اور محافظِ وطن ہونے کے ناطے انہوں نے نظریں چرانے کے بجائے بر وقت مداخلت کی اور اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے ایک خاتون شہری کی جان و آبرو کو محفوظ بنایا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے آئی جی اسلام آباد سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔
نائنتھ ایوینیو پر پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات
رپورٹس کے مطابق گروپ کیپٹن عاصم طارق نائنتھ ایوینیو سے گزر رہے تھے کہ انہوں نے موٹرسائیکل سوار ایک شخص کو ایک خاتون کا ہاتھ زبردستی کھینچتے اور اسے اغوا کرنے کی کوشش کرتے دیکھا۔
بہادر افسر فوری طور پر گاڑی گھما کر واپس آئے اور موٹرسائیکل کے قریب رکے، جس پر متاثرہ لڑکی جان بچانے کے لیے ان کی گاڑی کی دوسری طرف بھاگ آئی۔
اسی دوران موٹرسائیکل سوار مبینہ ملزم جس کا نام ’سعد‘ بتایا جا رہا ہے، نے گروپ کیپٹن عاصم کے ساتھ شدید بدکلامی شروع کر دی اور کچھ ہی لمحوں میں ان پر اندھا دھند فائر کھول دیا۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی رینجرز کیمپ پر دہشتگرد حملہ ناکام، 3 حملہ آور ہلاک، ایک گرفتار
گروپ کیپٹن عاصم طارق زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی شہید ہو گئے جبکہ ملزم فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
متاثرہ خاتون کا بیان اور پولیس کی کارروائی
پولیس حکام کے مطابق متاثرہ خاتون نے اپنے ابتدائی بیان میں بتایا ہے کہ ملزم سعد دفتر میں اس کا کولیگ (ساتھی) تھا، جس نے اسے کام پر ساتھ لے جانے کی پیشکش کی تھی۔
تاہم ملزم نے راستہ تبدیل کر کے اسے کسی اور جگہ لے جانے کی کوشش کی، جس پر لڑکی نے مزاحمت کی اور موٹرسائیکل سے اتر گئی۔
خاتون کے مطابق ’ملزم میرے ساتھ زور آزمائی کر رہا تھا کہ اسی دوران گروپ کیپٹن عاصم نے بر وقت مداخلت کر کے مجھے محفوظ کیا اور اپنی جان پر کھیل کر میری زندگی بچائی۔‘ قانون نافذ کرنے والے ادارے ملزم کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مار رہے ہیں۔
وزیر داخلہ کا نوٹس اور شہید کے لواحقین سے اظہارِ تعزیت
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایئرفورس کے گروپ کیپٹن عاصم طارق کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کی ہے۔
انہوں نے آئی جی اسلام آباد پولیس کو حکم دیا کہ فائرنگ کرنے والے ملزم کی جلد از جلد گرفتاری کو یقینی بنایا جائے اور شہید کے لواحقین کو انصاف کی فراہمی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔ شہید گروپ کیپٹن عاصم طارق نے اپنے سوگواران میں ایک بیوہ، ایک بیٹی اور ایک بیٹا چھوڑے ہیں۔
قومی سطح پر خراجِ تحسین
گروپ کیپٹن عاصم کی اس عظیم قربانی پر ملک بھر میں انہیں زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ قومی اور سوشل میڈیا پر ان کے اس اقدام کو پاکستان کی سب سے عمدہ روایت اور حقیقی ہیروئزم قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ جو لوگ یونیفارم پہنتے ہیں، ان کا اصل کردار ایسے ہی لمحات میں ثابت ہوتا ہے جب کوئی کیمرہ نہ دیکھ رہا ہو اور نہ ہی کوئی سرکاری حکم ہو۔
انہوں نے ذاتی حفاظت پر انسانیت کے فرض کو ترجیح دی اور کسی اور کی بیٹی کی حفاظت کرتے ہوئے یہ ثابت کیا کہ بہادری وہ فیصلہ ہے جو زندگی کے سب سے مشکل لمحے میں کیا جاتا ہے۔














