امریکا میں نئی نسل کے چھوٹے ماڈیولر جوہری ری ایکٹرز کی تیاری میں ایک تاریخی اور انقلابی پیش رفت سامنے آئی ہے، جسے جوہری توانائی کے شعبے میں ایک نئے اور محفوظ ترین دور کا آغاز قرار دیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 50 برسوں میں پہلی بار نجی شعبے کے اشتراک سے نئے ڈیزائن کے جوہری ری ایکٹر کو کامیابی سے فعال کر کے امریکی توانائی کی خودکفالت کی جانب ایک بڑا سنگ میل عبور کر لیا گیا ہے۔
نئے عہد کا پہلا حقیقی سنگ میل
میڈیا رپورٹس کے مطابق آئیڈاہو نیشنل لیبارٹری میں قائم نجی کمپنی ’انٹیرس‘ نے 4 جون کو تقریباً نصف صدی بعد امریکا میں جدید ڈیزائن کے جوہری ری ایکٹر کو کامیابی سے چلا کر اس شعبے میں پہلا تاریخی اعزاز اپنے نام کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی ایٹمی ری ایکٹر میں یورینیئم افزودگی کا نیا ریکارڈ کیا ہے؟
کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جارڈن برمبل نے اس کامیابی پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ امریکا میں جوہری توانائی کے نئے عہد کا پہلا حقیقی سنگ میل ہے۔
صدارتی پروگرام اور ری ایکٹرز کی فعال تیاری
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 2025 میں شروع کیے گئے خصوصی پروگرام کے تحت جوہری توانائی کے شعبے میں تیز رفتاری دیکھی جا رہی ہے۔
اسی سلسلے میں ایک اور بڑی کمپنی ’آلو اٹامکس‘ بھی آئندہ چند روز میں اپنے نئے ری ایکٹر کو فعال کرنے کے لیے بالکل تیار ہے۔
دوسری جانب ’ویلر اٹامکس‘نے 18 جون کو ریاست یوٹاہ میں اپنے ری ایکٹر کو کامیابی سے ’کریٹیکلیٹی‘ کے مرحلے تک پہنچا دیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ ری ایکٹر اب خودکار طریقے سے جوہری سلسلہ وار عمل کو برقرار رکھنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے۔
دوبارہ سول نیوکلیئر پر توجہ
آئیڈاہو نیشنل لیبارٹری ماضی میں دنیا کے پہلے بجلی پیدا کرنے والے جوہری ری ایکٹر سمیت 50 سے زیادہ ری ایکٹر پروٹو ٹائپس تیار کرنے کا اعزاز رکھتی ہے۔
تاہم ماضی میں امریکا کے ’تھری مائل آئی لینڈ‘ اور یوکرین کے ’چرنوبل‘ حادثات کے بعد عوامی تحفظ کے پیش نظر اس شعبے میں ترقی کی رفتار انتہائی سست ہو گئی تھی۔
اب یوکرین جنگ مصنوعی ذہانت کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال اور دنیا بھر میں بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث امریکی حکومت نے دوبارہ سول جوہری توانائی پر توجہ مرکوز کی ہے۔
مزید پڑھیں:ٹرمپ کی پالیسی سے نالاں ہالی ووڈ اداکارہ کرسٹن کا امریکا چھوڑنے پر غور
سابق صدر جو بائیڈن اور موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ دونوں کی انتظامیہ نے اس شعبے کی بحالی کے لیے ٹھوس اقدامات کیے، جس کے نتیجے میں حکومت اور نجی سرمایہ کار اب تک اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکے ہیں۔
روایتی پلانٹس کے مقابلے میں کم لاگت اور زیادہ تحفظ
یہ چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز روایتی اور دیوہیکل جوہری پلانٹس کے مقابلے میں انتہائی کم لاگت ہیں اور انہیں بہت کم وقت میں تعمیر کر کے مختلف مقامات پر آسانی سے نصب کیا جا سکتا ہے۔
’آلو اٹامکس‘ کے صدر اور چیف ٹیکنالوجی آفیسر یاسر عرفات کے مطابق ان نئے ری ایکٹرز میں استعمال ہونے والی جدید ترین ٹیکنالوجی انہیں روایتی پلانٹس سے کہیں زیادہ محفوظ بناتی ہے، جس کے باعث اب بھاری کنکریٹ اور اسٹیل کے روایتی حفاظتی ڈھانچوں کی ضرورت بھی نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔
فوجی اڈوں اور ڈیٹا سینٹرز کے لیے بجلی کی فراہمی
ان چھوٹے ری ایکٹرز کو خاص طور پر دور دراز کے فوجی اڈوں، بڑے ڈیٹا سینٹرز اور دیگر اہم تنصیبات کو بلاتعلط بجلی فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
منصوبے کے مطابق ’ریڈیئنٹ نیوکلیئر‘ اور ’انٹیرس‘ کے ابتدائی ری ایکٹرز امریکی فوجی اڈوں پر نصب کیے جائیں گے، جبکہ ’آلو اٹامکس‘ اپنے ری ایکٹرز کے ذریعے ڈیٹا سینٹرز کی بھاری توانائی کی ضروریات کو پورا کرے گی۔
تجارتی منظوری اور مستقبل کے اہداف
واضح رہے کہ ری ایکٹر کا محض ’کریٹیکلیٹی‘ حاصل کرنا تجارتی بنیادوں پر بجلی کی پیداوار کے لیے کافی نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چاند پر انسانی بستی کے لیے بجلی کی فراہمی کا منصوبہ، ناسا نے نیوکلیئر ری ایکٹر پر کام تیز کردیا
ان ری ایکٹرز کو باقاعدہ عوامی اور تجارتی استعمال میں لانے سے قبل امریکی جوہری ریگولیٹری کمیشن سے حتمی منظوری حاصل کرنا ہوگی۔
اس حوالے سے امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے گہرے اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارا ہدف ہے کہ اگلے سال تک ان میں سے کچھ ری ایکٹرز عملی طور پر بجلی پیدا کرنا شروع کر دیں، جبکہ اس دہائی کے اختتام تک ایسے سینکڑوں ری ایکٹرز ملک بھر میں کام کر رہے ہوں گے۔
عالمی برآمدی مارکیٹ پر نظریں
امریکا کو امید ہے کہ یہ نئی نسل کی جدید جوہری ٹیکنالوجی مستقبل میں اس کے لیے ایک بہت بڑی برآمدی صنعت ثابت ہوگی۔
واضح رہے کہ اس وقت دنیا میں امریکا کے علاوہ چین واحد دوسرا ملک ہے جہاں اس قسم کے چھوٹے ماڈیولر جوہری ری ایکٹرز فعال طور پر کام کر رہے ہیں۔













