سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: شادی میں دلہن کو ملنے والے زیورات اس کی ذاتی ملکیت قرار

پیر 29 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک تاریخی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ شادی کے موقع پر دلہن کو ملنے والے سونے کے زیورات اس کی مکمل ذاتی ملکیت ہیں، جبکہ شوہر، ساس، سسر یا دیگر سسرالی افراد کو ان زیورات پر کسی قسم کا قانونی یا ملکیتی حق حاصل نہیں۔

مزید پڑھیں: خواتین کے وراثتی حقوق کے تحفظ کے لیے وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے یہ اہم فیصلہ سنایا۔ بینچ میں جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شکیل احمد بھی شامل تھے، جبکہ فیصلہ جسٹس شکیل احمد نے تحریر کیا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیاکہ والدین، رشتہ داروں یا دوستوں کی جانب سے دلہن کو دیا گیا سونا اور برائیڈل گفٹس صرف دلہن کی ملکیت تصور کیے جائیں گے۔

عدالت نے قرار دیا کہ دلہن کے زیورات یا تحائف کو روکنا اس کے ملکیتی حقوق سے غیرقانونی محرومی کے مترادف ہے، جبکہ شوہر یا سسرال دلہن کے زیورات پر قبضہ یا ان کا ناجائز استعمال نہیں کر سکتے۔

سپریم کورٹ نے مزید قرار دیا کہ کسی بھی تحفے کی ملکیت کا تعین اس نیت کی بنیاد پر کیا جائے گا جس مقصد کے لیے وہ تحفہ دیا گیا تھا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ بیوی اپنے زیورات، جہیز اور ذاتی سامان کی واپسی کے لیے فیملی کورٹ سے رجوع کر سکتی ہے، جبکہ فیملی کورٹ کو زیورات، جہیز اور ذاتی سامان کی واپسی سے متعلق مقدمات کی سماعت کا مکمل اختیار حاصل ہے۔

مزید پڑھیں: ایران میں خواتین کے حقوق کی جانب بڑی پیشرفت، موٹر سائیکل چلانے کی باضابطہ اجازت

سپریم کورٹ نے شوہر کی اپیل مسترد کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp