بی بی سی پشتو افغان طالبان رجیم کا پروپیگنڈا آگے پھیلانے لگا، دہشتگردی کے معاملے پر خاموشی سوالیہ نشان

پیر 29 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی پشتو) کی جانب سے افغان طالبان رجیم کے من گھڑت بیانیے کو تقویت پہنچائی جانے لگی، جو صحافتی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق بی بی سی پشتو معمول کے مطابق طالبان حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی تصاویر، ویڈیوز اور دیگر مواد کو نشر کرتا ہے، جس کے ذریعے طالبان حکومت کے پروپیگنڈے کو عالمی سطح پر نمایاں کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: اسلامی حکومت یا وسائل کی لوٹ مار؟ افغان طالبان کے اندر اقتدار کی خونریز کشمکش سامنے آگئی

طالبان حکومت کی جانب سے فراہم کردہ تصاویر اور جانی نقصانات سے متعلق بیانیے کو وسعت دے کر بی بی سی پشتو طالبان حکومت کے پروپیگنڈے کو پھیلانے کا ذریعہ بن رہا ہے۔

افغانستان میں کام کرنے والے بی بی سی کے عملے کی بقا کا انحصار بڑی حد تک طالبان حکومت کو ناراض نہ کرنے پر ہے۔ عملہ اس خدشے کا شکار رہتا ہے کہ اگر وہ طالبان کی عسکری سرگرمیوں یا دہشتگردوں کی معاونت کو بے نقاب کرےگا تو اسے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

بی بی سی کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی ذیلی تنظیم جماعت الاحرار کو دہشتگرد کے بجائے جنگجو قرار دیتا ہے۔

بی بی سی کی جانب سے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کے بعد عوامی سطح پر یہ مطالبہ سامنے آرہا ہے کہ اس نوآبادیاتی دور کے میڈیا ادارے پر پابندی عائد کی جائے اور کسی پاکستانی شہری کو اس کے لیے کام کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔

واضح رہے کہ جماعت الاحرار نے کراچی میں ہونے والے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں 3 رینجرز اہلکار شہید ہوئے تھے۔

اس کارروائی میں 6 دہشت گرد مارے گئے جبکہ ایک دہشتگرد عثمان علی جو افغان شہری تھا گرفتار کیا گیا، جس نے اعتراف کیاکہ وہ جلال آباد کے راستے پاکستان میں داخل ہوا تھا۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بی بی سی اس معاملے پر خاموش کیوں ہے، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بی بی سی بھارتی حمایت یافتہ خوارج کے لیے ہمدردی رکھتا ہے۔

طالبان حکومت نے سنسرشپ، دھمکیوں اور نگرانی کے ذریعے ایک ماحول بنا رکھا ہے، جس کے باعث افغانستان میں کام کرنے والے صحافی غیر معمولی دباؤ اور سخت پابندیوں کے تحت اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔

مزید پڑھیں: عوامی مراکز کو دہشتگردی کے لیے استعمال کرنے والے افغان طالبان کا پاکستان کے خلاف مسلسل پروپیگنڈا

طالبان حکومت کے زیر کنٹرول افغانستان سے آزادانہ رپورٹنگ ناممکن ہو چکی ہے، اور طالبان کے زیر انتظام علاقوں سے آنے والی ہر رپورٹ میں اس حقیقت کو واضح طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے کہ طالبان حکومت بین الاقوامی برادری کو زمینی حقائق کی مکمل تصویر نہیں دیکھنے دیتی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی آئی کی نجکاری کا عمل مکمل ہونا نئے دور کا آغاز، معاشی اصلاحات کا سلسلہ جاری رہے گا، وزیراعظم شہباز شریف

آزاد کشمیر: 2 کھرب 86 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش، تنخواہوں اور پینشن میں 7 فیصد اضافہ

مائیکل جیکسن کی زندگی پر بننے والی فلم سپر ہِٹ ہوگئی، عالمی باکس آفس پر نیا ریکارڈ قائم

غروب آفتاب دیکھنا صحت کے لیے کیوں مفید ہے؟ نئی تحقیق میں دلچسپ فوائد سامنے آگئے

اڈیالہ جیل کی پریزن وین سے 14 قیدی فرار، 4 کو دوبارہ پکڑ لیا گیا

ویڈیو

کروڑوں کی گاڑی میں آم فروخت کرنے والا تعلیم یافتہ نوجوان

شوق کی کوئی قیمت نہیں، کوئٹہ کے نوجوان نے چھت کو گلستاں میں تبدیل کردیا

آزاد کشمیر انتخابات: مسلم لیگ ن انتخابی مہم کا آغاز کرکے دیگر سیاسی جماعتوں پر بازی لے گئی

کالم / تجزیہ

جس کے ذکر سے پہلے پلکیں اشکوں سے وضو کرتی ہیں

اردو کے مہان ادیبوں کی پسندیدہ ہیروئن

دوست احباب ’کرائے‘ پر دستیاب ہیں