بھارت کا سندھ طاس معاہدے کو غیر مؤثر بنانا غیر قانونی، تنازع کو جنگ کے بجائے قانون سے حل ہونا چاہیے، احمر بلال صوفی

منگل 30 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ماہر بین الاقوامی قوانین احمر بلال صوفی نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں پانی، ہوا اور خوراک کو بنیادی انسانی ضروریات تسلیم کیا جا چکا ہے، اس لیے پانی سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی نہ صرف قانونی بلکہ انسانی حقوق کے بھی منافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو ’غیر موجودہ‘ یا غیر مؤثر حالت میں رکھنے کی کوشش بین الاقوامی قانون کے مطابق غیر قانونی ہے۔

اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے پر منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے احمر بلال صوفی نے کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو دیگر سیاسی اور دوطرفہ معاملات سے جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے، حالانکہ بین الاقوامی معاہدوں کو اس انداز سے مشروط نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں:بھارت سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ معطل یا ختم نہیں کر سکتا، عالمی ثالثی عدالت دو بار واضح کر چکی، سید مہر علی شاہ

انہوں نے کہا کہ پہلگام واقعے کے بعد اگر بھارت کو پاکستان سے کوئی اعتراض یا مطالبہ تھا تو بین الاقوامی اصولوں کے مطابق اسے پاکستان کو تحریری طور پر معلومات اور تحقیقات میں تعاون کی درخواست کرنا چاہیے تھی، مگر بھارت نے قانونی راستہ اختیار کرنے کے بجائے کشیدگی اور جنگ کا راستہ اپنایا۔

احمر بلال صوفی نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی تنازع ہے اور اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنے کا معاملہ اقوام متحدہ میں بھی اٹھا چکا ہے، کیونکہ یہ اقدام نہ صرف سندھ طاس معاہدے بلکہ اقوام متحدہ کے منشور کی بھی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود ہر تنازع کا ایک قانونی پہلو بھی ہے، جسے بین الاقوامی قانون اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے قانونی ماہرین کے درمیان باقاعدہ مکالمہ مسائل کے پائیدار حل میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

مزید پڑھیں:سندھ طاس معاہدہ صرف پانی کا نہیں، عالمی امن اور سلامتی کا معاملہ بن گیا

ماہر بین الاقوامی قانون نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان ہمیشہ بین الاقوامی قوانین اور اپنی معاہداتی ذمہ داریوں پر مکمل عمل درآمد کا حامی رہا ہے اور مستقبل میں بھی عالمی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے قومی مفادات اور آبی حقوق کا دفاع جاری رکھے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp