سندھ طاس معاہدے پر بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پانی کے تنازعات کو عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے، ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ جنوبی ایشیا میں امن، غذائی تحفظ اور خطے کے مستقبل کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔
سندھ طاس معاہدہ ایک بار پھر عالمی سطح پر زیر بحث آ گیا ہے، جس کے مستقبل کو ماہرین جنوبی ایشیا کے علاوہ عالمی امن اور استحکام سے بھی جوڑ رہے ہیں۔
International participants have started arriving in Islamabad to participate in the international seminar on the Indus Waters Treaty: An Instrument of Peace and Regional Stability, to be held on June 30.
On her arrival at Islamabad International Airport, Dr. Roxolana Zigón,… pic.twitter.com/H8uKibU4B2— Pakistan TV (@PakTVGlobal) June 28, 2026
میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارت کی جانب سے اپریل 2025 میں پہلگام حملے کے بعد سندھ طاس معاہدہ معطل رکھنے کے اعلان نے اس دیرینہ آبی معاہدے کے مستقبل پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ یہ معاہدہ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی سے پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پایا تھا، جو دونوں ممالک کے درمیان کئی جنگوں اور کشیدگی کے باوجود قائم رہا۔
رپورٹ کے مطابق معاہدے کے تحت دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے پانیوں پر پاکستان جبکہ راوی، بیاس اور ستلج کے پانیوں پر بھارت کو بنیادی حقوق حاصل ہیں۔ تاہم دونوں ممالک کو مشترکہ دریائی نظام سے متعلق مخصوص ذمہ داریاں بھی دی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ طاس معاہدے پر بھارت کے پرانے مؤقف اور نئے فیصلے میں تضاد سامنے آگیا
پاکستان کے لیے سندھ طاس نظام صرف ایک سفارتی معاہدہ نہیں بلکہ معیشت، زراعت، خوراک کے تحفظ اور توانائی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دریاؤں کے بہاؤ میں کسی بھی طویل رکاوٹ کے اثرات زرعی پیداوار، صنعت اور عوامی زندگی پر نمایاں ہو سکتے ہیں۔
س
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پانی کا مسئلہ دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کو بڑھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ پاکستان نے بھی ماضی میں واضح کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا۔
ماہرین کے مطابق اگر بھارت اور پاکستان کے درمیان آبی تنازع شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی غذائی تحفظ اور موسمیاتی استحکام پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ طاس معاہدے کی کھلی خلاف ورزی، بھارت کے آبی منصوبوں پر خطے میں تشویش
تحقیق کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان کسی بڑے تنازع یا جنگ کی صورت میں عالمی سطح پر بھی سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں، جن میں زرعی بحران اور بڑے پیمانے پر انسانی نقصان شامل ہیں۔
ماہرین زور دے رہے ہیں کہ سندھ طاس معاہدے کے تحفظ کے لیے عالمی برادری اور عالمی بینک کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ پانی جیسے بنیادی وسائل کو سیاسی کشیدگی سے محفوظ رکھا جا سکے۔














