میانمار: قیمتی پتھر کی کان میں حادثہ، 5 افراد ہلاک، 15 لاپتا

منگل 30 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

میانمار میں مون سون کی شدید بارشوں کے باعث ایک جیڈ یعنی سنگ یشم کی متروک کان کے ملبے کا ڈھیر اچانک منہدم ہو گیا، جس کے نتیجے میں قیمتی پتھروں کے ٹکڑوں کی تلاش میں مصروف کم از کم 5 افراد ہلاک جبکہ تقریباً 15 دیگر لاپتا ہو گئے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق یہ حادثہ شمالی ریاست کچن کے ضلع ہپاکانت میں اتوار کی رات پیش آیا، جہاں تقریباً 20 افراد فلڈ لائٹس کی روشنی میں کان کے فضلے میں قیمتی پتھروں کے ٹکڑے تلاش کر رہے تھے کہ اچانک ملبے کا ڈھیر ان پر آ گرا۔

یہ بھی پڑھیں: میانمار میں 11 ہزار قیراط کا دیوہیکل یاقوت دریافت

سرکاری اخبار دی گلوبل نیو لائٹ آف میانمار نے بتایا کہ مسلسل کئی روز تک ہونے والی موسلا دھار بارشوں کے باعث پرانے مائننگ ویسٹ کے ڈھیر غیر مستحکم ہو گئے تھے، جس کے نتیجے میں یہ حادثہ پیش آیا۔

رپورٹ کے مطابق اب تک 5 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ تقریباً 15 افراد تاحال لاپتا ہیں، امدادی ٹیمیں ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کے لیے مسلسل کارروائیاں کر رہی ہیں۔

میانمار میں کان کنی کا شعبہ بڑی حد تک غیر منظم ہے اور شمالی ریاست کچن دنیا میں اعلیٰ معیار کے جیڈ پتھر کا سب سے بڑا ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔

ایشیا کی متعدد ثقافتوں میں جیڈ کو خوش بختی کی علامت تصور کیا جاتا ہے، جبکہ پڑوسی ملک چین میں اس کی بے حد مانگ اور بلند قیمتوں کے باعث یہ انتہائی منافع بخش کاروبار ہے۔

مزید پڑھیں: بنگلہ دیش، میانمار کی سرحد پر بارودی سرنگ کے دھماکے میں 3 شہری جاں بحق

2021 میں فوجی بغاوت کے بعد جاری خانہ جنگی کے دوران مختلف مسلح گروہ اور فوجی دھڑے جیڈ کی متعدد کانوں پر قابض ہیں اور ان کانوں سے حاصل ہونے والی آمدنی اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

جبکہ غریب مزدور خطرناک حالات میں کانوں میں کام کرنے یا ملبے سے قیمتی پتھروں کے ٹکڑے چن کر روزی کمانے پر مجبور ہیں۔

ماہرین کے مطابق میانمار میں خاص طور پر مون سون کے موسم میں کانوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور ملبہ گرنے کے حادثات معمول بن چکے ہیں، کیونکہ شدید بارشوں سے غیر محفوظ سرنگیں اور فضلے کے اونچے ڈھیر غیر مستحکم ہو جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں: مردان: کان کنی کے دوران حادثہ، 9 مزدور جاں بحق، 2 زخمی

ہپاکانت کا علاقہ حالیہ مہینوں میں میانمار کی فوج اور حکومت مخالف مسلح گروہوں کے درمیان شدید جھڑپوں کا مرکز بھی رہا ہے، جہاں دونوں فریق جیڈ کی کانوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے برسرِ پیکار ہیں۔

واضح رہے کہ میانمار میں 2021 میں فوج کی جانب سے منتخب حکومت کا تختہ الٹنے اور نوبیل انعام یافتہ رہنما آنگ سان سو چی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے ملک خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وفاقی سرکاری اسپتالوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم جاری

’آپ جیکولین سے حسد کرتی تھیں‘، سکیش چندر شیکھر کا نورا فتیحی کے نام خط وائرل

نیپال میں تباہی کا انتباہ 5 ماہ قبل کیا گیا، ہمالیائی گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے کا انکشاف

وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں