بنگلہ دیش کے جنوب مشرقی ضلع بندربن میں بنگلہ دیش اور میانمار کی سرحد کے قریب بارودی سرنگ کے ایک دھماکے میں تین عام شہری جاں بحق ہوگئے ہیں۔
یہ افسوسناک واقعہ اتوار کی دوپہر تقریباً 1:00 بجے میانمار کی سرزمین سے متصل زیرو لائن کے قریب نائیکھونگ چھڑی کے غمدہم سرحدی علاقے میں پیش آیا۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش بارڈر گارڈز کی میانمار سرحد کے قریب بڑی کارروائی، بھاری مقدار میں گولہ بارود برآمد
حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد بالوکھیا پاڑہ گاؤں کے رہائشی تھے جو سرحد کے قریب کیلے کے ایک باغ میں کام کرنے گئے تھے۔
مقامی رہائشیوں اور پولیس کے مطابق ان میں سے ایک شہری کا پاؤں زمین میں دبی ہوئی بارودی سرنگ پر آگیا، جس کے نتیجے میں دھماکا ہوگیا، جس سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گیا۔
جب باقی 2 ساتھی اسے بچانے کے لیے آگے بڑھے تو وہاں ایک اور دھماکہ ہوا، جس کی زد میں آ کر وہ دونوں بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
کاکس بازار میں بارڈر گارڈ بنگلہ دیش بٹالین 34 کے کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل ایس ایم خیرالاعلام نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مقامی لوگ زخمیوں کو قریبی اسپتال لے کر گئے تھے جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کردی۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش نے ایک بار پھر روہنگیا مہاجرین کی واپسی کے لیے مؤثر عالمی تعاون کی اپیل کردی
حکام کا ماننا ہے کہ میانمار کی سرحد پر جاری بدامنی اور عدم استحکام کے باعث یہ دھماکہ خیز مواد سرحدی زون میں نصب کیا گیا تھا۔ پولیس اور بی جی بی کے اہلکاروں نے واقعے کی جگہ کا دورہ کر کے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔
دوسری جانب بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی نے اس سرحدی دھماکے اور ملک کے دیگر حصوں میں ہونے والے ٹریفک حادثات پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
ڈھاکا میں جاری ایک بیان میں جماعتِ اسلامی کے اسسٹنٹ جنرل سیکریٹری ایڈووکیٹ احسان المحبوب زبیر نے کہا کہ غمدہم کے سرحدی علاقے میں ہونے والا یہ دھماکہ مبینہ طور پر بنگلہ دیشی حدود کے اندر ہوا ہے۔
انہوں نے فرید پور اور ٹانگیل میں ہونے والے سڑک کے حادثات، جن میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے، اور پیروجپور میں چاقو کے حملے میں دو نوجوانوں کے قتل کا بھی ذکر کیا۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کے 73 ماہی گیر میانمار کی قید سے آزاد کروالیے گئے
جماعت کے رہنما نے ان واقعات کو ملک اور سرحدی علاقوں میں بڑھتی ہوئی عدم تحفظ کی علامت قرار دیتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ وہ بارودی سرنگوں سے شہریوں کے تحفظ اور امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔














