سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ عالمی قوانین کا دعویدار بھارت آج خود قانون شکنی کررہا ہے، سندھ طاس معاہدہ کسی بھی صورت یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: بھارت کی جانب سے پاکستان کا پانی روکنے کی دھمکی انسانیت کے خلاف جرم ہے، ڈاکٹر وکٹر گاؤ
اسلام آباد میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے حنا ربانی کھر نے کہاکہ سندھ طاس معاہدے کا معاملہ صرف پاکستان کا نہیں بلکہ پورے عالمی نظام کا مسئلہ ہے، کیونکہ اگر بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی کو نظر انداز کیا گیا تو اس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔
بھارت، کئی دہائیوں سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل نشست کا خواہش مند رہا اور خود کو عالمی قوانین بنانے والوں میں شامل دیکھنا چاہتا تھا، لیکن آج انہی قوانین کو توڑنے والا ملک کیوں بن گیا ہے۔
سندھ طاس معاہدہ ایک ایسا معاہدہ ہے، جسے یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا۔… pic.twitter.com/7FCfnj56R3— WE News (@WENewsPk) June 30, 2026
انہوں نے کہاکہ ثالثی عدالت بھی واضح کر چکی ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل نہیں کر سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ پانی کو تنازع کا سبب بنانے کے بجائے تعاون کا ذریعہ بنایا جانا چاہیے تاکہ خطے میں امن، استحکام اور باہمی اعتماد کو فروغ مل سکے۔
سابق وزیر خارجہ نے سوال اٹھایا کہ کوئی ملک آخر کس طرح کھلے عام ایک پوری تہذیب کو مٹانے کی بات کر سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت کی جانب سے پاکستان کا پانی روکنا قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے، لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض
انہوں نے کہاکہ اگر بھارتی رویے کا بروقت نوٹس نہ لیا گیا تو مستقبل میں دوسرے ممالک بھی اس طرز عمل سے متاثر ہوں گے، جس سے عالمی قوانین اور بین الاقوامی معاہدوں کی حیثیت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
حنا ربانی کھر نے مزید کہاکہ بھارت کئی دہائیوں سے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کا خواہاں رہا ہے اور خود کو عالمی قوانین وضع کرنے والے ممالک میں شامل دیکھنا چاہتا تھا، لیکن آج وہی ملک بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔














