نائب صدر سینٹر فار چائنا اینڈ گلوبلائزیشن ڈاکٹر وکٹر گاؤ نے کہا ہے کہ دریائے سندھ کے نظام کے حوالے سے بھارت مکمل طور پر ناانصافی کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں: سندھ طاس معاہدہ برقرار رہے گا، کیونکہ یہی خطے میں امن، استحکام اور آبی تعاون کی بنیاد ہے، عطا اللہ تارڑ
سندھ طاس معاہدے سے متعلق اسلام آباد میں منعقدہ بین الاقوامی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سندھ طاس معاہدے سے متعلق اس بین الاقوامی سیمینار میں شرکت ان کے لیے باعث اعزاز ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک سال قبل بھارت نے پاکستان کی جانب بہنے والے دریاؤں کا پانی روکنے کی دھمکیاں دینا شروع کیں، جبکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ دریائے سندھ کا ایک قطرہ پانی بھی پاکستان نہیں جانے دیں گے۔
ڈاکٹر وکٹر گاؤ نے کہاکہ انہوں نے اس وقت ایک بھارتی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں واضح کیا تھا کہ پانی روکنے کی دھمکی دینا انسانیت کے خلاف جرم ہے۔
انہوں نے کہا کہ کروڑوں لوگوں کے لیے پانی کا بہاؤ روکنا جنگی جرم میں شمار ہوگا۔
انہوں نے مزید کہاکہ انہوں نے اس وقت بھی بھارت پر زور دیا تھا کہ وہ ایسا ہرگز نہ کرے۔
مزید پڑھیں: سندھ طاس معاہدے کی بحالی کے بغیر پاک بھارت پائیدار امن ممکن نہیں، بلاول بھٹو زرداری
ڈاکٹر وکٹر گاؤ نے اپنے خطاب میں بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ دوسروں کے ساتھ وہ سلوک نہ کرے جو وہ اپنے ساتھ ہوتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا۔














