انسانی ماہرین کی اہمیت برقرار، کارساز کمپنی فورڈ نے مصنوعی ذہانت سے مایوس ہوکر انجینیئرز دوبارہ بھرتی کرلیے

منگل 30 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی آٹو موبائل کمپنی فورڈ نے مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر انحصار کم کرتے ہوئے تجربہ کار انسانی انجینیئرز کو دوبارہ بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ کمپنی کے مطابق معیار کی جانچ کے شعبے میں اے آئی مطلوبہ نتائج دینے میں ناکام رہی۔

یہ بھی پڑھیں: فورڈ اگلے ہفتے F-150 لائٹننگ گاڑی کی پیداوار دوبارہ شروع کرے گی

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق فورڈ نے حالیہ عرصے میں 300 سے زائد تجربہ کار کوالٹی انسپکٹرز اور انجینئرز کو بھرتی کیا ہے تاکہ خودکار نظام میں سامنے آنے والی خامیوں کو دور کیا جا سکے۔

فورڈ کے نائب صدر برائے وہیکل ہارڈویئر انجینئرنگ، چارلس پون نے کہا کہ مصنوعی ذہانت ایک شاندار ٹیکنالوجی ہے لیکن اس کی کارکردگی کا انحصار اس ڈیٹا اور معلومات کے معیار پر ہوتا ہے جن کی بنیاد پر اسے تربیت دی جاتی ہے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ گزشتہ برسوں کے دوران کمپنی نے اپنے تجربہ کار انجینیئرز کی مہارت اور تجربے کو وہ اہمیت نہیں دی جو دی جانی چاہیے تھی حالانکہ یہی ماہرین کئی دہائیوں سے مختلف مصنوعات کی تیاری کے مراحل سے گزر چکے ہیں۔

فورڈ ان بڑی کمپنیوں میں شامل رہی ہے جنہوں نے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے رجحان سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی خصوصاً اس امید پر کہ یہ ٹیکنالوجی اخراجات کم کرنے اور پیداواری عمل کو مزید مؤثر بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔

مزید پڑھیے: گاڑیوں میں حفاظتی اقدامات: پاکستان میں کمپنیاں قانون پر کتنے فیصد عمل کرتی ہیں؟

اسی مقصد کے تحت کمپنی نے اپنے مختلف پیداواری مراکز میں تقریباً 900 اے آئی سے چلنے والے کیمرے نصب کیے تھے جن کا مقصد مصنوعات میں موجود خامیوں کی فوری نشاندہی اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کو کم کرنا تھا۔

تاہم چارلس پون کے مطابق مصنوعی ذہانت پر مبنی معیار جانچنے کے نظام توقعات پر پورا نہیں اتر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ کمپنی نے دوبارہ تجربہ کار انسانی ماہرین کی خدمات حاصل کی ہیں جو نہ صرف اے آئی الگورتھمز کی تربیت کریں گے بلکہ نوجوان انجینیئرز کی رہنمائی بھی کریں گے۔

فورڈ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اعلیٰ ترین معیار حاصل کرنے کے لیے باصلاحیت اور تجربہ کار افرادی قوت کی ازسرنو تشکیل ناگزیر ہے۔

کمپنی نے اس سلسلے میں سپلائی چین اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں متعدد سینئر عہدیداروں کو بھی تبدیل کیا ہے جبکہ 300 ایسے انجینیئرز کو بھرتی کیا گیا ہے جو کئی سالوں کے عملی تجربے کے حامل ہیں۔

مزید پڑھیں: 2024: وہ مشہور گاڑیاں جن کی جگہ الیکٹرک کاریں لیں گی؟

فورڈ کا یہ اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت جدید صنعتوں میں اہم کردار ادا کر رہی ہے تاہم بعض شعبوں میں انسانی تجربہ اور مہارت اب بھی اہمیت رکھتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp