اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی کارکنوں میں جھڑپ، علیمہ خان کی موجودگی میں دھکم پیل اور تلخ کلامی 

بدھ 1 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اڈیالہ جیل کے باہر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کے دوران ایک بار پھر کارکنوں کے درمیان مبینہ طور پر تلخ کلامی، دھکم پیل اور گالم گلوچ نے پی ٹی آئی میں تنظیمی نظم و ضبط کی قلعی کھول دی۔

اڈیالہ جیل کے باہر گزشتہ روز احتجاج کے دوران پیش آنے والے مبینہ واقعات محض وقتی ہنگامہ آرائی نہیں بلکہ ایک ایسے سیاسی کلچر کی عکاسی کرتے ہیں جو برداشت، نظم و ضبط اور مکالمے کے بجائے اشتعال، تلخ کلامی اور تصادم پر استوار ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر یہی طرزِ عمل برقرار رہا تو اس کے اثرات نہ صرف جماعت کی داخلی سیاست بلکہ ملکی سیاسی ماحول پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

پی ٹی آئی کی سیاست پر تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ اڈیالہ جیل کے باہر ہونے والے احتجاج اب محض سیاسی اجتماعات نہیں رہے بلکہ ہر ہفتے ایک نئے ہنگامے کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق تازہ احتجاج کے دوران بھی مبینہ طور پر کارکن آپس میں الجھ پڑے، دھکم پیل، تلخ کلامی اور گالم گلوچ دیکھنے میں آئی۔

علیمہ خان کارکنوں کو متحرک کرتی رہیں مگر اس کے باوجود کارکن ایک دوسرے سے ہی الجھتے رہے،  یہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ جذباتی سیاست بالآخر اپنے ہی کارکنوں کو آمنے سامنے لا کھڑا کرتی ہے۔

اڈیالہ جیل کے باہر بار بار دہرایا جانے والا یہ منظر اس سیاسی کلچر کی عکاسی کرتا ہے جس میں برداشت، نظم و ضبط اور مکالمے کے بجائے اشتعال، ہنگامہ آرائی اور تصادم کو فوقیت حاصل ہو گئی ہے۔ ان کے نزدیک جب اختلاف رائے کو سنبھالنے کی صلاحیت کمزور پڑ جائے تو کارکن مخالفین سے پہلے آپس میں ہی دست و گریباں ہونے لگتے ہیں۔

 یہ محض ایک احتجاج کا واقعہ نہیں بلکہ ایک ایسے سیاسی کلچر کی علامت ہے جہاں شائستگی کی جگہ بدتمیزی، دلیل کی جگہ دھونس اور سیاست کی جگہ تماشہ لے لیتا ہے۔  اگر قیادت کارکنوں کو احترام، برداشت اور مکالمے کے بجائے تضحیک اور محاذ آرائی کا راستہ دکھائے تو پھر یہی رویہ جلسوں، احتجاجوں اور عوامی مقامات پر نظر آتا ہے۔

اڈیالہ جیل کے باہر ہر ہفتے سامنے آنے والے واقعات اسی طرزِ سیاست کی عکاسی کرتے ہیں۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حقوق اور جمہوریت کے دعوؤں کے ساتھ ساتھ عملی رویوں میں تحقیر اور تلخی نمایاں دکھائی دیتی ہے، جس کے نتیجے میں ایک سیاسی جماعت رفتہ رفتہ منظم تنظیم کے بجائے ایک ہجوم کا تاثر دینے لگتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ماضی میں بعض دیگر سیاسی رہنماؤں نے پی ٹی آئی کی حمایت سے اہم پارلیمانی عہدے حاصل کیے، لیکن بعد میں اپنے سیاسی راستے الگ کر لیے۔ ان کے مطابق اس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ جماعت کو بعض حلقوں نے محض سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا۔

تنقید کرنے والوں کے مطابق پی ٹی آئی نے سنجیدہ سیاست کے بجائے ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں ہر ہفتے کوئی نیا تنازع، نئی لڑائی یا نیا ہنگامہ سامنے آ جاتا ہے۔ ان کے نزدیک اصل سوال کارکنوں کے رویے کا نہیں بلکہ اس سیاسی تربیت کا ہے جو انہیں دی جا رہی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ جب کردار کشی کو ہنر، بدتمیزی کو بہادری اور اشتعال انگیزی کو سیاسی سرگرمی سمجھا جائے تو نتیجہ وہی نکلتا ہے جو اڈیالہ جیل کے باہر دیکھنے میں آ رہا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ جماعتی قیادت اس طرزِ سیاست پر غور کرے۔ ان کے مطابق اگر پارٹی قیادت اس کلچر سے لاتعلقی اختیار نہیں کرتی اور اس کی اصلاح کے لیے عملی اقدامات نہیں کرتی تو ایسے واقعات مستقبل میں بھی دہرائے جا سکتے ہیں۔ ان کی رائے میں سیاسی جماعتوں کی اصل طاقت نظم و ضبط، برداشت، دلیل اور جمہوری رویوں میں ہوتی ہے، نہ کہ ہنگامہ آرائی، تلخ کلامی اور تصادم میں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp