یورپی یونین میں شدید گرمی کی لہر کے دوران ایئر کنڈیشننگ کے استعمال پر جاری بحث نے ایک نئی سیاسی اور سماجی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ معروف تجزیہ کار ریچل مارسڈن نے اپنے مضمون میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ماحولیاتی پالیسیوں کے نام پر شہریوں کی ذاتی آزادی محدود کی جا رہی ہے اور ایئر کنڈیشننگ کا معاملہ درحقیقت انفرادی اختیار اور ریاستی کنٹرول کے درمیان ایک نئی آزمائش بن چکا ہے۔
Air conditioning is the EU’s freedom test
Once the acceptable level of discomfort becomes a public policy question, it isn’t going to stop there:https://t.co/hEbIsG7Khs pic.twitter.com/2yZF53oGg7— Wojciech Langer (@wojc13114) July 2, 2026
معروف سیاسی تجزیہ کار ریچل مارسڈن نے کہا ہے کہ یورپی ممالک، خصوصاً فرانس میں، شدید گرمی کے باوجود ایئر کنڈیشننگ کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے، جو ماحولیاتی تحفظ سے زیادہ شہری آزادیوں پر قدغن لگانے کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:یورپ میں شدید گرمی کی لہر سے 1,300 سے زائد اموات، عالمی ادارۂ صحت کا انتباہ
ارشیا ٹو ڈے کے مطابق پنے تجزیاتی مضمون میں انہوں نے لکھا کہ فرانس میں درجہ حرارت کئی روز تک 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے، لیکن حکومت اس مسئلے کا حل جدید ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کے بجائے عوام کو ایئر کنڈیشننگ سے دور رہنے کی ترغیب دینے میں تلاش کرتی ہے۔ ان کے مطابق حکومت کا مؤقف ہے کہ اگر لوگ کم ایئر کنڈیشننگ استعمال کریں گے تو مستقبل میں گرمی کی شدت بھی کم ہوگی۔

مصنفہ کے مطابق فرانس میں اگرچہ ایئر کنڈیشننگ پر براہِ راست پابندی نہیں، تاہم عمارتوں کی ظاہری ساخت اور دیگر قواعد کے ذریعے اس کی تنصیب کو اس قدر مہنگا اور مشکل بنا دیا گیا ہے کہ عام شہری اس سے گریز کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
Fox News vs. PBS – How two networks reported on the heat wave in Europe and the scarcity of air conditioning. (excerpts of longer segments)
Fox News – The climate crazies hate A/C
PBS – Europe hasn't needed A/C for decades because it didn't get that hot. pic.twitter.com/tPb9uuqMlk— Decoding Fox News (@DecodingFoxNews) July 2, 2026
انہوں نے اس صورتحال کا موازنہ کورونا وبا کے دوران نافذ کی گئی پابندیوں سے کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت بھی بظاہر ویکسین لازمی نہیں تھی، مگر عملی طور پر ملازمت، سفر اور سماجی سرگرمیوں کے لیے اسے ناگزیر بنا دیا گیا تھا۔
ریچل مارسڈن نے یورپی معاشروں میں ایئر کنڈیشننگ سے متعلق پائے جانے والے خدشات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ سرد ہوا کو صحت کے لیے نقصان دہ قرار دینا یا اسے ماحول پر غیر معمولی بوجھ سمجھنا سائنسی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ گرمی سے متاثرہ اسپتالوں اور نرسنگ ہومز میں بھی بعض اوقات ایئر کنڈیشننگ کے استعمال میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں، جس سے بزرگوں اور مریضوں کی صحت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
France: "Gimme that AIRCON!"
Brussels next week: "China's overcapacity in cooling has destroyed European values, law and order" First EVs, then solar panels, now aircons and fans. The EU's new red line: affordable comfort
Can't wait for the 100% tariff on not melting 🥶🇪🇺🤡 pic.twitter.com/X4BOXx9cVt
— StarBoySAR 🇭🇰 🇨🇳 🥭 (@StarboySAR) July 1, 2026
اگر حکومتیں یہ طے کرنے لگیں کہ شہری کس حد تک گرمی یا دیگر تکالیف برداشت کریں، تو یہ صرف ایئر کنڈیشننگ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ انفرادی آزادیوں پر مزید قدغنوں کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔ ان کے بقول ماحولیاتی پالیسیوں اور موسمیاتی تبدیلی کے نام پر شہریوں کو ایک مخصوص طرزِ زندگی اپنانے پر مجبور کرنا جمہوری اقدار اور ذاتی آزادی کے لیے ایک اہم امتحان بن چکا ہے۔














