برطانیہ سے تعلق رکھنے والی 42 سالہ لووری ڈینمین نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت کے 2007 کے سفر کے بعد انہیں ایک انتہائی نایاب اور خطرناک بیماری نیورو سسٹیسَرکوسس لاحق ہوئی جس کے باعث ان کے دماغ میں 38 پیراسائٹس پائے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
بی بی سی کے مطابق لووری ڈینمین کے مطابق بیماری کی پہلی علامت اس وقت سامنے آئی جب انہیں واش روم میں ایک میٹر لمبا ٹیپ ورم ملا جسے انہوں نے انتہائی خوفناک اور پلاسٹک جیسا قرار دیا۔ تاہم ابتدائی طبی ٹیسٹس میں کسی سنگین مسئلے کی تصدیق نہ ہو سکی۔
ان کا کہنا ہے کہ سنہ 2010 کے بعد ان کی حالت بگڑنی شروع ہوئی اور شدید سر درد، دوروں اور بعد ازاں مرگی کے دورے ہونے لگے۔ سنہ 2011 میں انہیں پہلا بڑا دورہ پڑا جس کے بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔
مزید طبی معائنے اور اسکینز کے بعد ڈاکٹروں نے انکشاف کیا کہ ان کے دماغ میں 38 پیراسائٹس موجود ہیں جو ممکنہ طور پر سور کے گوشت سے منتقل ہونے والے ٹیپ ورم کے انڈوں کے باعث پیدا ہوئے۔ ڈاکٹروں کے مطابق یہ انفیکشن آلودہ خوراک، پانی یا ناقص صفائی کے باعث منتقل ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!
لووری ڈینمین نے بتایا کہ ابتدائی علاج کے طور پر انہیں اینٹی پیراسائٹک ادویات اور اسٹیرائیڈز دیے گئے جس کے بعد کچھ عرصے کے لیے ان کی صحت بہتر ہوگئی۔ تاہم بعد ازاں دوبارہ پیچیدگیاں پیدا ہوئیں جن میں دماغی سوجن، جسمانی کمزوری، بے چینی اور نفسیاتی مسائل شامل تھے۔
انہوں نے بتایا کہ بیماری کے دوران انہیں نفسیاتی وارڈ میں بھی داخل رہنا پڑا جہاں ان کی حالت انتہائی خراب ہوگئی تھی۔ ان کے مطابق یہ ان کی زندگی کا سب سے مشکل دور تھا۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ کیس انتہائی نایاب ہے اور برطانیہ میں اس طرح کے مریض بہت کم دیکھے جاتے ہیں، جبکہ یہ بیماری زیادہ تر ان افراد میں پائی جاتی ہے جو ایسے علاقوں سے سفر کرکے آئے ہوں جہاں یہ انفیکشن عام ہو۔
طویل علاج اور بحالی کے بعد لووری ڈینمین نے اپنی صحت دوبارہ بہتر کر لی ہے اور وہ سنہ 2017 کے بعد کسی بڑے دورے کا شکار نہیں ہوئیں۔ تاہم وہ اب بھی مرگی کی ادویات استعمال کر رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: آسٹریلیا: خاتون کے دماغ سے 3 انچ لمبا زندہ کیڑا برآمد
لووری کا کہنا ہے کہ وہ اپنی اس تکلیف دہ تجربے کو مثبت مقصد کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہیں تاکہ اس نایاب بیماری سے متعلق آگاہی پھیلائی جا سکے۔














