پاکستان کے خلاف بھارتی جارحیت اور آبی تسلط کے عزائم پر مودی سرکار کو آئینہ دکھانے والے معروف کالم نگار اور ‘وی نیوز’ کے مستقل لکھاری آصف محمود کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ اکاؤنٹ پر شائع مضمون بلاک کر دیا ہے۔ بھارتی حکومت کا یہ اقدام بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ آزادیِ اظہارِ رائے کے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔
اکاؤنٹ کی بندش کا قانونی جواز اور نوٹس
ایکس پر جاری کردہ نوٹس کے مطابق آصف محمود کے مضمون تک رسائی بھارت کے ’انفارمیشن ٹیکنالوجی رولز‘ (انٹرمیڈیری گائیڈ لائنز اینڈ ڈیجیٹل میڈیا ایتھکس کوڈ) کے تحت قانونی تقاضوں کو بنیاد بنا کر محدود کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی آبی جارحیت: چند سنگین قانونی پہلو
بھارتی صارفین جب بھی کالم نگار کی پروفائل یا پوسٹس دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، تو انہیں یہ پیغام موصول ہوتا ہے کہ ’یہ مواد بھارت میں دستیاب نہیں ہے‘۔
بھارتی بوکھلاہٹ کی اصل وجہ
یہ سنسرشپ اس وقت سامنے آئی جب آصف محمود نے پاکستان کی معروف نیوز ویب سائٹ ’وی نیوز‘ پر بھارت کی آبی جارحیت کے قانونی پہلوؤں پر ایک مدلل مضمون شائع کیا۔

اس مضمون میں خطے کے حوالے سے نئی دہلی کی آبی پالیسیوں کے ایسے بنیادی اور ناقابلِ تردید قانونی نکات اجاگر کیے گئے تھے، جنہیں ہضم کرنا مودی سرکار کے لیے ناممکن ہو گیا، جس کے ردعمل میں ان کا مضمون بھارت کی حد تک بلاک کروا دیا گیا۔
آصف محمود کا اصولی مؤقف
اس پابندی پر ردعمل دیتے ہوئے کالم نگار آصف محمود نے اسے آزادیِ اظہارِ رائے پر کاری ضرب قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب بھی پاکستان کے خلاف بھارت کی پالیسیوں یا اقدامات پر تنقیدی اور سچا موقف سامنے آتا ہے، تو مودی سرکار ایسی آوازوں کو دبانے کے لیے ہمیشہ مختلف منفی حربے استعمال کرتی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اختلافی آرا کو اس طرح طاقت کے زور پر دبانا عالمی جمہوری اصولوں کے یکسر منافی ہے۔
پانی کا تنازع اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی
واضح رہے کہ پاک بھارت پانی کے تنازع کا پس منظر عالمی بینک کی ثالثی میں طے پانے والے ‘سندھ طاس معاہدے’ سے جڑا ہے، جس کے تحت مشرقی دریا (راوی، بیاس، ستلج) بھارت اور مغربی دریا (سندھ، جہلم، چناب) پاکستان کے حوالے کیے گئے تھے۔
تاہم 2025 میں پہلگام فالس فلیگ واقعے کے بعد بھارت نے معاہدے کے تحت باہمی تعاون کو یکطرفہ طور پر معطل کر رکھا ہے۔
پاکستان کا ہائیڈرو ٹیررازم کے خلاف قانونی مؤقف
پاکستان مسلسل بھارت پر ’پانی کو ہتھیار بنانے‘ اور ’ہائیڈرو ٹیررازم‘ (آبی دہشتگردی) کا الزام عائد کرتا آیا ہے۔
پاکستانی میڈیا میں شائع ہونے والے مضامین میں مستقل یہ نکتہ اٹھایا جا رہا ہے کہ بھارت کے یکطرفہ ڈیمز اور دریاؤں کے بہاؤ میں تبدیلیاں عالمی قوانین اور انسانی حقوق (پانی تک رسائی کا بنیادی حق) کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کی آبی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا تو وہ اپنے حقوق کا بھرپور دفاع کرے گا اور اس جارحیت کے خلاف انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس، ثالثی عدالتوں اور انسانی حقوق کے عالمی فورمز پر قانونی جنگ لڑے گا۔
بھارتی سنسرشپ کی پرانی تاریخ
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب بھارت نے سچائی کو چھپانے کے لیے ایسے ہتھکنڈے اپنائے ہوں۔ آصف محمود طویل عرصے سے بھارتی پالیسیوں، مقبوضہ کشمیر، آبی تنازعات اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر بے باکی سے لکھتے رہے ہیں۔
ماضی میں بھی مودی حکومت عالمی سطح پر اپنا اصل چہرہ بے نقاب ہونے کے خوف سے کئی دیگر پاکستانی صحافیوں اور اداروں کے اکاؤنٹس مواد اور مضامین کے خلاف اس قسم کی سنسرشپ کے اقدامات کر چکی ہے۔














