یکم جولائی کو سیاحتی مقام ناران کے قریب دھم دھمہ کے علاقے میں ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کی کوشش کے دوران ایک ویگو ڈالا بے قابو ہو کر دریائے کنہار میں جا گرا، تاہم مقامی رافٹنگ رضاکاروں کی بروقت کارروائی کے نتیجے میں مشہور ٹک ٹاکر عثمان ورک سمیت 5 نوجوانوں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔
حادثہ دریائے کنہار کے کنارے اس وقت پیش آیا جب نوجوان ٹک ٹاک ویڈیوز بنا رہے تھے۔ اطلاع ملتے ہی تربیت یافتہ مقامی رافٹنگ رضاکار موقع پر پہنچے اور ریسکیو بوٹ کی مدد سے دریا میں پھنسے تمام نوجوانوں کو بحفاظت باہر نکال لیا۔
مقامی افراد کے مطابق اس کامیاب ریسکیو آپریشن میں اظہر خان، مظہر اقبال، روزی خان، آفاق، قیصر اور جواد نے اپنی مدد آپ کے تحت بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے قیمتی جانیں بچائیں۔
واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر جہاں ٹک ٹاکر اور انتظامیہ پر تنقید کی گئی، وہیں بروقت اور پیشہ ورانہ انداز میں ریسکیو آپریشن کرنے والے مقامی رضاکاروں کو بھرپور خراجِ تحسین بھی پیش کیا گیا۔
سوشل میڈیا صارفین اور مقامی افراد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان نوجوانوں کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں سرکاری سطح پر اعزاز اور نقد انعام دیا جائے تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو اور دوسروں کو بھی ایسے فلاحی کاموں کی ترغیب ملے۔
صارفین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رضاکار بروقت موقع پر نہ پہنچتے تو خدانخواستہ قیمتی جانوں کا ضیاع ہوسکتا تھا۔














