امریکی اولمپیئن پر لنکن میموریل ریفلیکٹنگ پول کو نقصان پہنچانے کا الزام، فردِ جرم عائد

جمعہ 3 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا میں سابق اولمپک کینو ایتھلیٹ ڈیوڈ ہرن پر واشنگٹن ڈی سی کے تاریخی لنکن میموریل ریفلیکٹنگ پول کو نقصان پہنچانے کے الزام میں فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔ اگر الزام ثابت ہو گیا تو انہیں 10 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے، تاہم ناقدین نے اس مقدمے اور الزامات کی نوعیت پر سوالات اٹھائے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ جونیئر کی آن لائن اسلحہ کمپنی کو اربوں ڈالر کا فائدہ؟ امریکی حکومت کی نئی تجویز پر بحث چھڑ گئی

رائٹرز کے مطابق امریکی اٹارنی جینین پیرو نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ 67 سالہ ڈیوڈ ہرن پر سرکاری املاک کو جان بوجھ کر نقصان پہنچانے کا سنگین الزام عائد کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل پارک سروس کے اہلکاروں نے ہرن کو ریفلیکٹنگ پول کی تہہ سے حفاظتی تہہ کھینچتے ہوئے دیکھا، جس سے تقریباً 2 مربع فٹ حصہ متاثر ہوا۔ ان کے بقول نقصان کی مالیت ایک ہزار ڈالر سے زیادہ ہونے کے باعث یہ مقدمہ سنگین جرم کے زمرے میں آتا ہے۔

ڈیوڈ ہرن نے تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ 19 جون کو سائیکل پر وہاں سے گزر رہے تھے اور صرف پول میں اکھڑتی ہوئی تہہ کو دیکھنے کے لیے رکے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کسی قسم کی توڑ پھوڑ نہیں کی بلکہ صرف پانی میں ہاتھ ڈال کر سطح کو محسوس کیا تھا۔

یہ ریفلیکٹنگ پول صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر حال ہی میں ایک کروڑ 31 لاکھ ڈالر کی لاگت سے مرمت اور تزئین و آرائش کے بعد دوبارہ کھولا گیا تھا، تاہم افتتاح کے فوراً بعد اس میں کائی جم جانے اور نیلے رنگ کی تہہ اکھڑنے کی شکایات سامنے آئیں۔ ٹرمپ نے اس خرابی کا ذمہ دار مبینہ تخریب کاری کو قرار دیا تھا، جبکہ متعدد ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ناقص تعمیراتی کام کا نتیجہ ہے۔

امریکی حکام اس معاملے میں اب تک 7 افراد کو گرفتار کر چکے ہیں۔ ڈیوڈ ہرن کے خلاف مقدمے کی اگلی سماعت 9 جولائی کو ہو گی، جبکہ اس کیس نے امریکا میں انصاف، سرکاری منصوبوں اور سیاسی اثر و رسوخ سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp