فیفا ورلڈ کپ 2026 کے پری کوارٹر فائنل میں انگلینڈ سے شکست کے بعد جمہوریہ کانگو (ڈی آر کانگو) کی مہم تو اختتام پذیر ہو گئی، تاہم 5 دہائیوں سے زائد عرصے بعد ورلڈ کپ میں واپسی کرنے والی ٹیم نے اپنی کارکردگی سے ملک بھر میں اتحاد، امید اور قومی فخر کی نئی لہر پیدا کر دی۔
یہ بھی پڑھیں:فیفا ورلڈ کپ: ڈی آر کانگو نے تاریخ رقم کردی، انگلینڈ گروپ چیمپئن، کروشیا بھی کامیاب
الجزیرہ کے مطابق ڈی آر کانگو کی قومی ٹیم ’لیوپرڈز‘ نے 52 سال بعد ورلڈ کپ میں شرکت کی اور اپنی شاندار کارکردگی سے ایک ایسے ملک کے عوام کو یکجا کر دیا جو برسوں سے شورش، وبائی بیماریوں اور سیاسی غیر یقینی کا شکار رہا ہے۔ انگلینڈ کے خلاف شکست کے باوجود شائقین نے ٹیم کی بھرپور تعریف کی اور اسے ملک کی تاریخ کی بہترین نسل قرار دیا۔ بنیا شہر کے رہائشیوں کا کہنا تھا کہ ٹیم نے انہیں پہلی مرتبہ عالمی سطح پر فخر محسوس کرنے کا موقع دیا۔
۔
1974 میں زائر کے نام سے ورلڈ کپ کھیلنے والی ٹیم تینوں میچ ہار گئی تھی اور ایک بھی گول نہ کر سکی تھی، لیکن اس بار کانگو نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ اسٹرائیکر یوآن ویسا نے 3 گول کر کے ملک کی ورلڈ کپ تاریخ میں پہلا گول اسکور کرنے والے کھلاڑی کا اعزاز حاصل کیا، جبکہ پرتگال کے خلاف ان کے گول نے 52 سالہ انتظار ختم کر دیا۔
ڈی آر کانگو نے گروپ مرحلے میں پرتگال سے ڈرا کیا، ازبکستان کو شکست دی اور کولمبیا کے خلاف سخت مقابلہ کیا، جبکہ پری کوارٹر فائنل میں انگلینڈ کو بھی سخت ٹکر دی۔ انگلش کپتان ہیری کین نے میچ کے بعد اعتراف کیا کہ کانگو کی ٹیم نے انہیں بھرپور چیلنج دیا۔
یہ بھی پڑھیں:رونالڈو ورلڈ کپ میں تاریخ رقم نہ کر سکے، پرتگال کو کانگو کے خلاف ڈرا کا سامنا
کانگو کے کوچ سباستیان دیزابر نے کہا کہ شکست پر مایوسی ضرور ہے، مگر کھلاڑیوں نے ثابت کیا کہ وہ دنیا کی بہترین ٹیموں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ شائقین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ٹیم ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی، لیکن اس نے قوم کو ایک نئی امید، اعتماد اور یادگار لمحات ضرور دے دیے۔













