یورپ میں رواں موسم گرما کے دوران ریکارڈ توڑ گرمی، بیماریوں، اموات اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات نے ماہرین کو خبردار کر دیا ہے کہ براعظم میں شدید گرمی کی لہریں اب غیر معمولی نہیں بلکہ ’نیا معمول‘ بنتی جا رہی ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت نے یورپی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ گرمی کی شدت سے نمٹنے کے لیے اسی طرح مستقل منصوبہ بندی کریں جیسے ہر سال موسم سرما میں فلو سے نمٹنے کے لیے کی جاتی ہے۔
1,300 KILLED across Europe in 7 DAYS as HEATWAVE grips continent — WHO pic.twitter.com/Nky2aCYpxl
— RT (@RT_com) June 28, 2026
رواں ہفتے جرمنی، پولینڈ اور جمہوریہ چیک میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جبکہ فرانس میں بعض علاقوں میں پارہ 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا۔ شدید گرمی کے بعد آنے والے طوفانوں اور دیگر اثرات کے نتیجے میں صرف فرانس میں تقریباً ایک ہزار اضافی اموات کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جبکہ ٹرانسپورٹ کا نظام بھی متعدد مقامات پر متاثر ہوا۔
ماحولیاتی تحقیق کرنے والے ادارے ورلڈ ویدر ایٹری بیوشن کے مطابق اس شدت کی گرمی اب 2003 کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ متوقع ہو چکی ہے، جبکہ 50 برس پہلے ایسی گرمی تقریباً ناقابلِ تصور تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی حدت میں اضافے کے باعث یورپ 1980 کی دہائی کے بعد سے دنیا کے اوسط کے مقابلے میں تقریباً دوگنی رفتار سے گرم ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:یورپ میں شدید گرمی سے ہلاکتیں 3,700 سے متجاوز، فرانس، بیلجیم اور ہالینڈ سب سے زیادہ متاثر
یونیورسٹی آف ریڈنگ کے ماہرین کے مطابق موجودہ گرمی کی فوری وجہ ’ہیٹ ڈوم‘ یعنی بلند فضائی دباؤ کا ایسا نظام ہے جو کئی روز تک گرمی کو ایک ہی علاقے میں قید رکھتا ہے، تاہم اصل وجہ دہائیوں سے جاری گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ہے، جس کے اثرات اب نمایاں ہو رہے ہیں۔
The French have started fighting over air conditioners and fans: the situation in Europe due to extreme heat
Temperatures in central and western regions have exceeded +44°C, which has led to the deaths of 1,300 people in just three days. pic.twitter.com/knNMF86z4B
— NEXTA (@nexta_tv) July 3, 2026
عالمی ادارۂ صحت کے یورپی ڈائریکٹر ڈاکٹر ہانس کلوگے نے خبردار کیا ہے کہ گرمی سے ہونے والی اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اگر رہائشی عمارتوں، پانی کے نظام، ابتدائی انتباہی نظام اور شہری منصوبہ بندی میں تبدیلیاں نہ کی گئیں تو 2050 تک صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کچھ ماحولیاتی نقصان اب ناقابل واپسی ہو چکا ہے، تاہم گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی، جدید انفراسٹرکچر اور مؤثر منصوبہ بندی کے ذریعے مستقبل میں شدید گرمی کے اثرات کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔














