یورپ کا موسم مستقل بدل گیا؟ عالمی ماہرین نے نئی وارننگ جاری کر دی

ہفتہ 4 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یورپ میں رواں موسم گرما کے دوران ریکارڈ توڑ گرمی، بیماریوں، اموات اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات نے ماہرین کو خبردار کر دیا ہے کہ براعظم میں شدید گرمی کی لہریں اب غیر معمولی نہیں بلکہ ’نیا معمول‘ بنتی جا رہی ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت نے یورپی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ گرمی کی شدت سے نمٹنے کے لیے اسی طرح مستقل منصوبہ بندی کریں جیسے ہر سال موسم سرما میں فلو سے نمٹنے کے لیے کی جاتی ہے۔

رواں ہفتے جرمنی، پولینڈ اور جمہوریہ چیک میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جبکہ فرانس میں بعض علاقوں میں پارہ 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا۔ شدید گرمی کے بعد آنے والے طوفانوں اور دیگر اثرات کے نتیجے میں صرف فرانس میں تقریباً ایک ہزار اضافی اموات کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جبکہ ٹرانسپورٹ کا نظام بھی متعدد مقامات پر متاثر ہوا۔

ماحولیاتی تحقیق کرنے والے ادارے ورلڈ ویدر ایٹری بیوشن کے مطابق اس شدت کی گرمی اب 2003 کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ متوقع ہو چکی ہے، جبکہ 50 برس پہلے ایسی گرمی تقریباً ناقابلِ تصور تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی حدت میں اضافے کے باعث یورپ 1980 کی دہائی کے بعد سے دنیا کے اوسط کے مقابلے میں تقریباً دوگنی رفتار سے گرم ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:یورپ میں شدید گرمی سے ہلاکتیں 3,700 سے متجاوز، فرانس، بیلجیم اور ہالینڈ سب سے زیادہ متاثر

یونیورسٹی آف ریڈنگ کے ماہرین کے مطابق موجودہ گرمی کی فوری وجہ ’ہیٹ ڈوم‘ یعنی بلند فضائی دباؤ کا ایسا نظام ہے جو کئی روز تک گرمی کو ایک ہی علاقے میں قید رکھتا ہے، تاہم اصل وجہ دہائیوں سے جاری گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ہے، جس کے اثرات اب نمایاں ہو رہے ہیں۔

عالمی ادارۂ صحت کے یورپی ڈائریکٹر ڈاکٹر ہانس کلوگے نے خبردار کیا ہے کہ گرمی سے ہونے والی اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اگر رہائشی عمارتوں، پانی کے نظام، ابتدائی انتباہی نظام اور شہری منصوبہ بندی میں تبدیلیاں نہ کی گئیں تو 2050 تک صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کچھ ماحولیاتی نقصان اب ناقابل واپسی ہو چکا ہے، تاہم گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی، جدید انفراسٹرکچر اور مؤثر منصوبہ بندی کے ذریعے مستقبل میں شدید گرمی کے اثرات کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

دہری شہریت کے حامل مسافروں کے لیے پی آئی اے کی اہم ایڈوائزری جاری

امریکا نے طلبا اور غیر ملکی صحافیوں کے لیے ویزا قوانین سخت کردیے

مذہبی ہم آہنگی اور اتحادِ امت کی شاندار مثال، تمام مکاتب فکر کی ایک امام کے پیچھے نماز کی ادائیگی

کیا ٹرمپ کا نیا سکہ واقعی سونے کا بنا ہے؟

طالبان رجیم کس طرح بھارت سے پیسے لے کر دہشتگرد گروہوں سے پاکستان میں حملے کرواتی ہے؟ سابق افغان جنرل نے بتادیا

ویڈیو

کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے فیلڈ مارشل سے متعلق پروپیگنڈا، کشمیر پیپلز پارٹی کا، کیا ایسا ممکن ہوگا؟ پی ٹی آئی کا ایک اور یوٹرن

ماضی میں عدالتی احکامات پر مسمار ہونے والی عمارتوں سے متعلق سپریم کورٹ کے نئے فیصلے سے متاثرین کو کیا ریلیف ملے گا؟

نوکری اور پیسے تو سب لیتے ہیں، لیکن جہاں موت کا خطرہ ہو وہاں ہر کوئی نہیں جاتا، عامر نواز وڑائچ

کالم / تجزیہ

ہمارا جھوٹ اور ان کا جھوٹ

دھڑکتے دل کا فون

کپتانی کا خبط: سیاست سے کھیل تک