امریکا کے نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کی جانب سے جاری کی گئی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ امریکی ریاست مسوری میں پیش آنے والے اسکائی ڈائیونگ طیارے کے حادثے کی فوری طور پر کوئی واضح وجہ سامنے نہیں آئی۔
جمعرات کو جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق حادثے کے وقت طیارے کے انجن میں کسی خرابی کے شواہد نہیں ملے، جبکہ طیارے میں موجود ایندھن بھی معیاری اور آلودگی سے پاک تھا۔
یہ بھی پڑھیں: نیویارک کے لاگارڈیا ہوائی اڈے پر طیارہ حادثہ: 2 ہلاک، درجنوں زخمی
تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ حادثے کے وقت موسم سازگار تھا اور طیارہ وزن اور توازن کے تمام مقررہ معیارات پر پورا اترتا تھا۔
یہ حادثہ 14 جون کو مسوری کے شہر بٹلر میں بٹلر میموریل ایئرپورٹ کے قریب پیش آیا تھا، جہاں اسکائی ڈائیونگ کے لیے استعمال ہونے والا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا تھا۔
Preliminary report didn’t flag an engine failure before a skydiving plane crash that killed 12 https://t.co/kF726cvlv5 #News
— The Right News, Right Now. (@BradPorcellato) July 3, 2026
حادثے میں 11 اسکائی ڈائیورز اور ایک پائلٹ سمیت مجموعی طور پر 12 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ کوئی بھی شخص زندہ نہ بچ سکا۔
بٹس کاؤنٹی کے ایمرجنسی مینجمنٹ ڈائریکٹر اور قائم مقام ایئرپورٹ منیجر ڈینس جیکبز کے مطابق سنگل انجن ٹربو پروپ طیارہ ٹیک آف کے بعد مطلوبہ بلندی حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
مزید پڑھیں: لیبیئن طیارہ حادثہ: کاک پٹ وائس اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈرز بازیاب
انہوں نے بتایا کہ طیارے نے اچانک بائیں جانب تیز موڑ لیا اور رن وے سے تقریباً 300 گز کے فاصلے پر زمین سے ٹکرا کر تباہ ہوگیا۔
ڈینس جیکبز نے بتایا کہ حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ اسکائی ڈائیو کنساس سٹی نامی کمپنی چلا رہی تھی۔
نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کا کہنا ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات اور حتمی رپورٹ کی تیاری میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں، جس کے بعد ہی حادثے کی اصل وجہ کا تعین کیا جا سکے گا۔














