امریکا میں اسکائی ڈائیونگ طیارہ حادثہ، ابتدائی رپورٹ کیا کہتی ہے؟

ہفتہ 4 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا کے نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کی جانب سے جاری کی گئی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ امریکی ریاست مسوری میں پیش آنے والے اسکائی ڈائیونگ طیارے کے حادثے کی فوری طور پر کوئی واضح وجہ سامنے نہیں آئی۔

جمعرات کو جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق حادثے کے وقت طیارے کے انجن میں کسی خرابی کے شواہد نہیں ملے، جبکہ طیارے میں موجود ایندھن بھی معیاری اور آلودگی سے پاک تھا۔

یہ بھی پڑھیں: نیویارک کے لاگارڈیا ہوائی اڈے پر طیارہ حادثہ: 2 ہلاک، درجنوں زخمی

تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ حادثے کے وقت موسم سازگار تھا اور طیارہ وزن اور توازن کے تمام مقررہ معیارات پر پورا اترتا تھا۔

یہ حادثہ 14 جون کو مسوری کے شہر بٹلر میں بٹلر میموریل ایئرپورٹ کے قریب پیش آیا تھا، جہاں اسکائی ڈائیونگ کے لیے استعمال ہونے والا طیارہ گر کر تباہ ہوگیا تھا۔

حادثے میں 11 اسکائی ڈائیورز اور ایک پائلٹ سمیت مجموعی طور پر 12 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ کوئی بھی شخص زندہ نہ بچ سکا۔

بٹس کاؤنٹی کے ایمرجنسی مینجمنٹ ڈائریکٹر اور قائم مقام ایئرپورٹ منیجر ڈینس جیکبز کے مطابق سنگل انجن ٹربو پروپ طیارہ ٹیک آف کے بعد مطلوبہ بلندی حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

مزید پڑھیں: لیبیئن طیارہ حادثہ: کاک پٹ وائس اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈرز بازیاب

انہوں نے بتایا کہ طیارے نے اچانک بائیں جانب تیز موڑ لیا اور رن وے سے تقریباً 300 گز کے فاصلے پر زمین سے ٹکرا کر تباہ ہوگیا۔

ڈینس جیکبز نے بتایا کہ حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ اسکائی ڈائیو کنساس سٹی نامی کمپنی چلا رہی تھی۔

نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کا کہنا ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات اور حتمی رپورٹ کی تیاری میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں، جس کے بعد ہی حادثے کی اصل وجہ کا تعین کیا جا سکے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp