بیلجیم کے ہیڈ کوچ روڈی گارشیا کا کہنا ہے کہ معطل امریکی اسٹرائیکر فولارن بالوگن کو پیر کو بیلجیم کے خلاف ورلڈ کپ کے راؤنڈ آف 16 میں کھیلنے کی اجازت ملنے پر انہوں نے پہلے پہل اسے ایک مذاق سمجھا۔
دوسری جانب بیلجین فٹبال فیڈریشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ فیفا کے اس حیران کن فیصلے کے خلاف تمام ممکنہ قانونی اور انتظامی آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فیفا کا بڑا فیصلہ، امریکی فٹبالر بالوگن کا ریڈ کارڈ واپس، صدر ٹرمپ کا خصوصی اظہار تشکر
اتوار کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گارشیا نے طنزیہ انداز میں کہا کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ ورلڈ کپ میں 5 جولائی دراصل یکم اپریل ہوتا ہے، یعنی اپریل فول کا دن۔
انہوں نے کہا کہ بیلجین فیڈریشن کا تفصیلی بیان صرف قومی ٹیم کے دفاع کے لیے جاری نہیں کیا گیا بلکہ اس کا مقصد فٹبال کے اصولوں کا تحفظ بھی ہے۔
’ہم صرف اپنی قومی ٹیم یا فیڈریشن کا دفاع نہیں کر رہے، بلکہ ہم فٹبال کا دفاع کر رہے ہیں۔‘
Breaking News: President Trump called the head of FIFA days before the suspension of Folarin Balogun, the U.S.’s top goal scorer in the World Cup, was reversed. https://t.co/bMp27wl79X
— The New York Times (@nytimes) July 5, 2026
بالوگن کو امریکا کی بوسنیا ہرزیگووینا کے خلاف 2-0 کی فتح کے دوران ایک سخت ٹیکل پر میدان سے باہر بھیج دیا گیا تھا۔
اگرچہ ریفری نے ابتدا میں کوئی کارروائی نہیں کی، تاہم ویڈیو اسسٹنٹ ریفری کے جائزے کے بعد انہیں ریڈ کارڈ دکھایا گیا۔
قوانین کے مطابق ریڈ کارڈ ملنے پر کم از کم ایک میچ کی معطلی لازمی ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں: 2026 ورلڈ کپ میرا آخری ٹورنامنٹ ہوگا، کرسٹیانو رونالڈو کا اعلان
واضح رہے کہ اس ضمن میں سامنے آنیوالی خبروں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مبینہ طور پر امریکی اسٹرائیکر فولارن بالوگن پر عائد ایک میچ کی پابندی ختم کرنے کے لیے فیفا پر زور دیا تھا۔
جس کے بعد اتوار کو فیفا نے حیران کن طور پر اعلان کیا کہ بالوگن پیر کو سیئٹل میں بیلجیم کے خلاف ورلڈ کپ کے راؤنڈ آف 16 کے میچ میں کھیلنے کے اہل ہوں گے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے بدھ سے فیفا حکام سے اس معاملے پر 3 مرتبہ رابطہ کیا تاکہ بالوگن کی معطلی ختم کرنے کا فیصلہ کیا جا سکے۔
🇺🇸🌍⚽️Fresh FIFA Controversy Erupts as Trump-Backed Balogun Decision Fuels Claims of Political Interference
Fresh controversy has engulfed FIFA just days after the governing body faced criticism over its World Cup opening ceremony, with football's leadership now under fire over… pic.twitter.com/dhFbYBkpMf
— Real Global News (@FelastoryMedia) July 5, 2026
تاہم اتوار کی صبح فیفا نے اعلان کیا کہ بالوگن کی ایک میچ کی پابندی ختم کر دی گئی ہے اور وہ بیلجیم کے خلاف راؤنڈ آف 16 کا اہم میچ کھیل سکیں گے۔
بیلجیم کے گول کیپر تھیبو کورتوا نے کہا کہ اگر یہ فیصلہ پہلے آ جاتا تو شاید ہم ذہنی طور پر بہتر تیاری کر سکتے تھے، لیکن خوش قسمتی سے ہمارے پاس ایک مزید ٹریننگ سیشن موجود ہے۔
’۔۔۔بہرحال ہم تیار ہوں گے۔ ان کے پاس صرف بالوگن ہی نہیں بلکہ 11 کھلاڑی ہیں۔‘
مزید پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ: مصر پہلی بار ناک آؤٹ مرحلہ جیت گیا، ارجنٹینا کی اعصاب شکن کامیابی
گارشیا اور کورتوا نے اس معاملے پر مزید تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے صحافیوں کو بیلجین فیڈریشن کے بیان کی جانب رجوع کرنے کا کہا، جس میں فیفا کے فیصلے کو ’حیران کن‘ اور ٹورنامنٹ کے لیے خود فیفا کے مقرر کردہ قواعد کے منافی قرار دیا گیا ہے۔
جب گارشیا سے پوچھا گیا کہ کیا بیلجیم اس فیصلے کو کورٹ آف آربیٹریشن فار اسپورٹس میں چیلنج کرے گا، تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ اس وقت اپنی توجہ صرف کھیل پر مرکوز رکھنا چاہتے ہیں۔
فیفا کے فیصلے پر تنقید صرف بیلجیم تک محدود نہیں رہی۔ برازیل کے خلاف اپنی ٹیم کی کامیابی کے بعد ناروے کے کوچ اسٹالے سولباکن نے بھی اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
مزید پڑھیں: ناروے کا بڑا اپ سیٹ، برازیل کو شکست دیکر پہلی بار ورلڈ کپ کوارٹر فائنل میں پہنچ گیا
’میرے خیال میں فیفا نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ وی اے آر نے ریڈ کارڈ کی تصدیق کی، کھلاڑی کو میدان سے باہر بھیجا گیا، اس کا مطلب ہے کہ اسے ایک میچ کی پابندی کا سامنا کرنا چاہیے تھا۔‘
سولباکن نے مزید کہا کہ بیلجیم یقیناً غصے میں ہوگا اور اگر بالوگن فاتحانہ گول کر دیتے ہیں تو پھر کیا ہوگا۔ ’آئندہ ہر ریڈ کارڈ کے بعد کیا کوئی کمیٹی بیٹھ کر اسے ختم کرتی رہے گی۔‘
’یہ ورلڈ کپ کے لیے نہایت خراب فیصلہ ہے، اور مجھے امریکا کے لیے بھی افسوس ہوگا کیونکہ اگر وہ جیت بھی گئے تو اس کامیابی پر ہمیشہ سوال اٹھتے رہیں گے۔‘













