صدر مملکت آصف علی زرداری قرغز صدر سادیر ژاپاروف کی دعوت پر 4 روز کے لیے کرغزستان کے سرکاری دورے پر روانہ ہوگئے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گزشتہ 21 برسوں میں کسی بھی پاکستانی صدر کا یہ کرغزستان کا پہلا دورہ ہے، جسے دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات میں ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور کرغزستان نے تجارتی حجم 20 کروڑ ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، وزیراعظم شہباز شریف
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ دورہ دسمبر 2025 میں کرغزستان کے صدر صادیر ژاپاروف کے پاکستان کے کامیاب دورے کا تسلسل ہے اور دونوں برادر ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے روابط میں مسلسل بہتری کی عکاسی کرتا ہے۔
دورے کے دوران صدر آصف علی زرداری اور صدر صادیر ژاپاروف کے درمیان ون آن ون ملاقات اور وفود کی سطح پر مذاکرات ہوں گے۔
دونوں رہنما پاکستان اور کرغزستان کے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی امور پر بھی تبادلہ خیال کریں گے۔
مذاکرات میں تجارت و سرمایہ کاری، توانائی، معدنیات، زراعت، ٹیکسٹائل، حلال صنعت، صحت، ادویہ سازی، ڈیجیٹل معیشت، تعلیم، سیاحت اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی ’گرین کوریڈور‘ تجویز پر کرغزستان کی خاموشی کیوں؟
اپنے دورے کے دوران صدر مملکت کرغز پارلیمنٹ کے اسپیکر سے بھی ملاقات کریں گے۔
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اور کرغز جمہوریہ کے درمیان دوستانہ اور برادرانہ تعلقات قائم ہیں، جو مشترکہ تاریخ، مذہبی و ثقافتی ہم آہنگی اور وسطی و جنوبی ایشیا میں امن، روابط اور خوشحالی کے مشترکہ وژن پر استوار ہیں۔














