فیفا ورلڈ کپ میں سیاسی مداخلت کب کب ہوئی؟

پیر 6 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فٹبال ورلڈ کپ کو دنیا کا سب سے بڑا کھیلوں کا مقابلہ تصور کیا جاتا ہے، تاہم اس کی تاریخ میں کئی مواقع ایسے بھی آئے جب سیاست نے میدان میں اپنی واضح موجودگی کا احساس دلایا۔ حالیہ مثال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو سے رابطہ ہے، جس کے بعد امریکا کے اسٹرائیکر فولارن بالوگن کے ریڈ کارڈ کی سزا ایک سال کے لیے معطل کردی گئی، جس سے وہ بیلجیئم کے خلاف پری کوارٹر فائنل میں کھیلنے کے اہل ہوگئے۔

  مسولینی کا ورلڈ کپ (1934)

1934 میں اٹلی میں ہونے والے ورلڈ کپ کو فاشسٹ رہنما بینیٹو مسولینی نے اپنے سیاسی اثرورسوخ کے لیے استعمال کیا۔ مسولینی نہ صرف میچز میں شریک ہوتے رہے بلکہ ریفریوں کے کمروں میں بھی جاتے تھے۔ اس ٹورنامنٹ میں اٹلی نے ٹائٹل جیتا، تاہم امپائرنگ پر سوالات اٹھتے رہے۔

مسولینی اور ہٹلر کا اثر(1938)

1938 کے ورلڈ کپ میں فرانس میزبان تھا، جبکہ نازی جرمنی کے رہنما ایڈولف ہٹلر نے آسٹریا کے انضمام کے بعد اس کی ٹیم کو جرمن ٹیم میں شامل کر لیا۔ دوسری جانب مسولینی نے اپنی ٹیم کو فائنل سے قبل سخت پیغام دیا کہ جیتو یا مر جاؤ۔ اٹلی نے ہنگری کو شکست دے کر مسلسل دوسرا عالمی اعزاز اپنے نام کیا۔

ارجنٹائن کی فوجی حکومت(1978)

1978 کا ورلڈ کپ ارجنٹائن میں فوجی حکومت کے دور میں منعقد ہوا۔ اس وقت ملک میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری تھیں، لیکن اس کے باوجود ٹورنامنٹ کا انعقاد ہوا۔ ارجنٹائن کی پیرو کے خلاف 0-6 کی غیر معمولی فتح پر بھی سیاسی مداخلت اور مبینہ خفیہ معاہدوں کے الزامات سامنے آئے، جس کے بعد ارجنٹائن نے فائنل جیت کر عالمی چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔

کویتی عہدیدار کا میدان میں داخلہ(1982)

1982 کے ورلڈ کپ میں فرانس اور کویت کے میچ کے دوران کویتی اولمپک کمیٹی کے صدر شیخ فہد الاحمد الصباح میدان میں داخل ہوگئے اور ریفری سے فرانس کا ایک گول منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ حیران کن طور پر ریفری نے یہ مطالبہ مان لیا، تاہم فرانس نے بعد میں ایک اور گول کر کے میچ جیت لیا۔

ورلڈ کپ کی تاریخ سے یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ دنیا کے مقبول ترین فٹبال ٹورنامنٹ میں مختلف ادوار میں سیاسی شخصیات اور حکومتوں کی مداخلت موضوع بحث بنتی رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp