بھارت سرکار دلجیت دو سانجھ کی فلم ’ستلج‘ سے کیوں خوفزدہ ہے؟

منگل 7 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

معروف بھارتی اداکار دلجیت دوسانجھ کی فلم ’ستلج‘، جس کا سابقہ نام ’پنجاب 95‘ تھا، ریلیز کے چند روز بعد ہی او ٹی ٹی پلیٹ فارم زی فائیو سے ہٹا دی گئی ہے۔ فلم کو ہٹانے کی وجہ اس کے مواد سے متعلق حکومتی اور انتظامی خدشات بتائے گئے ہیں، جبکہ پلیٹ فارم کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے حتمی فیصلہ آنے تک فلم دستیاب نہیں ہوگی۔

رپورٹس کے مطابق یہ فلم 3 جولائی کو نئے نام ’ستلج‘ کے ساتھ ریلیز کی گئی تھی، تاہم مکمل جائزے کے بعد اسے پلیٹ فارم سے ہٹا دیا گیا۔

یاد رہے کہ فلم کی کہانی انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھالڑا کی زندگی اور ان کی جدوجہد پر مبنی ہے، جنہوں نے پنجاب میں مبینہ ماورائے عدالت ہلاکتوں کے معاملات کو اجاگر کیا تھا۔

فلم زی فائیو سے کیوں ہٹائی گئی؟

زی فائیو کے مطابق فلم کو اس لیے ہٹایا گیا کیونکہ اس کے مواد سے متعلق کچھ خدشات سامنے آئے تھے۔ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ حکام کو خدشہ تھا کہ فلم کے بعض حصوں کو بھارت مخالف بیانیے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، اسی وجہ سے اسے فوری طور پر دستیاب نہ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

زی فائیو نے وضاحت کی کہ فلم کی نمائش انتظامیہ کی جانب سے مزید ہدایات ملنے تک روک دی گئی ہے۔ پلیٹ فارم کا کہنا ہے کہ وہ فلم کے تخلیقی نقطہ نظر اور مضبوط کہانیوں کی حمایت کرتا ہے اور تجزیہ مکمل ہونے کے بعد اسے دوبارہ ناظرین کے لیے پیش کرنے کی کوشش کرے گا۔

ریلیز سے قبل بھی تنازع

فلم کو اس سے قبل سینما گھروں میں ریلیز کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ فلم سازوں کے مطابق سنٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن (CBFC) نے 2022 میں جمع کرائی گئی فلم میں 127 تبدیلیوں کا مطالبہ کیا، جس کے باعث اس کی تھیٹر ریلیز طویل عرصے تک تعطل کا شکار رہی۔

بعد ازاں فلم کو تھیٹر کے بجائے او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر ریلیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا، کیونکہ او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر فلم دکھانے کے لیے سینما ریلیز کی طرح سرٹیفکیشن کی شرط عائد نہیں ہوتی۔

دلجیت دوسانجھ کا ردعمل

فلم کے مرکزی اداکار دلجیت دوسانجھ نے فلم ہٹائے جانے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ پنجاب کی تاریخ کے ایک مشکل دور کو دنیا کے سامنے لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ وہ اپنی زندگی کے آخری لمحے تک پنجاب کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

سیاسی ردعمل

فلم کو ہٹائے جانے پر سیاسی ردعمل بھی سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ مالویندر سنگھ کانگ نے کہا کہ فلم کو بغیر واضح وضاحت کے او ٹی ٹی سے ہٹانا افسوسناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تاریخ کے تلخ حقائق کا سامنا کرنے کے بجائے سنسرشپ اختیار کرنا درست نہیں۔

کانگریس رہنما سُکھ پال کھیرا نے بھی فلم کی معطلی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ فلم جسونت سنگھ کھالڑا کی زندگی اور انسانی حقوق سے متعلق اہم معاملات پر مبنی ہے۔

فلم کا پس منظر

’ستلج‘، جس کا اصل نام ’پنجاب 95‘ تھا، انسانی حقوق کے کارکن جسونت سنگھ کھالڑا کی زندگی پر بنائی گئی ہے۔ کھالڑا 1952 میں امرتسر میں پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے 1980 کی دہائی کے دوران پنجاب میں مبینہ لاپتہ افراد اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کے معاملات کو اجاگر کرنے کے لیے کام کیا۔

فلم کی ریلیز ایک طویل قانونی اور انتظامی عمل کے بعد ممکن ہوئی، تاہم اب اسے دوبارہ جائزے کے لیے روک دیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp