دمشق میں فرانسیسی صدر کی قیام گاہ کے قریب بم دھماکے، سیکیورٹی سخت

منگل 7 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

شام کے دارالحکومت دمشق میں منگل کے روز اس ہوٹل کے قریب 2 بم دھماکے ہوئے جہاں فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون قیام پذیر تھے۔

تاہم فرانسیسی ایوانِ صدر ایلیزے کے مطابق صدر ایمانوئیل میکرون محفوظ رہے اور انہوں نے بعد ازاں شامی صدر احمد الشراع سے طے شدہ ملاقات بھی کی۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دھماکے میکرون کے ہوٹل کے قریب ہوئے، تاہم اس وقت تک فرانسیسی صدر ہوٹل سے روانہ ہو کر صدارتی محل پہنچ چکے تھے، جہاں انہوں نے شامی صدر احمد الشراع سے ملاقات کی۔

یہ بھی پڑھیں: فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے چشمے سوشل میڈیا پر وائرل، قیمت کتنی؟

خبر رساں ادارے رائٹرز کے ایک عینی شاہد نے دھماکوں کی آواز سننے اور جائے وقوعہ سے دھواں اٹھتے دیکھنے کی تصدیق کی۔

دھماکوں کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا، سڑکیں بند کر دی گئیں اور سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی۔

دوسری جانب شامی سیکیورٹی ذرائع کو بتایا کہ ایک بم کچرے کے کنٹینر میں جبکہ دوسرا فور سیزنز ہوٹل کے قریب کھڑی ایک گاڑی میں نصب کیا گیا تھا۔

ایلیزے کے مطابق دھماکوں کی آواز صدارتی قافلے تک نہیں پہنچی اور نہ ہی فرانسیسی صحافیوں نے، جو میکرون کے ہمراہ تھے، ان کے صبح کے سرکاری پروگراموں کے دوران کسی غیر معمولی صورتحال کا مشاہدہ کیا۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کا میکرون کے سن گلاسز پر طنز، عالمی رہنماؤں میں نئی بحث

بعد ازاں شامی سرکاری ٹیلی وژن نے اطلاع دی کہ فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون اور شامی صدر احمد الشراع کے درمیان صدارتی محل میں ملاقات ہوئی۔

واضح رہے کہ 2024 میں باغیوں کی جانب سے بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون شام کا دورہ کرنے والے یورپی یونین کے کسی بھی رکن ملک کے پہلے سربراہِ مملکت ہیں۔

ان کے دورے کے دوران ہونے والے یہ دھماکے شام کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp