بینکنگ محتسب پاکستان سراج الدین عزیز نے سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات میں بینکاری تنازعات کے مؤثر اور شفاف حل، بینکنگ سیکٹر میں جاری اصلاحاتی اقدامات اور ادارہ جاتی تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ ملاقات چیف جسٹس آف پاکستان کی زیرِ صدارت ہونے والی حالیہ اعلیٰ سطحی مشاورت کے تناظر میں ہوئی، جس میں بینکاری مقدمات کی کارکردگی بہتر بنانے، قانونی و انتظامی اصلاحات کا جائزہ لینے اور متبادل طریقہ ہائے حلِ تنازعات کو فروغ دینے پر غور کیا گیا تھا۔
ملاقات کے دوران بینکنگ محتسب نے اپنے ادارے کی سال 2025 کی کارکردگی سے متعلق چیف جسٹس کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بینکنگ محتسب پاکستان نے سال 2025 کے دوران مجموعی طور پر 36 ہزار 280 شکایات نمٹائیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان بینکنگ محتسب کی ششماہی رپورٹ جاری، کمرشل بینکوں کی کارکردگی غیر تسلی بخش قرار
ان میں 13 ہزار 793 شکایات گزشتہ سال سے منتقل ہوئی تھیں، جبکہ 35 ہزار 130 نئی شکایات موصول ہوئیں۔ ادارے کی مؤثر کارکردگی کے باعث مجموعی زیرِ التوا شکایات میں 8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
بینکنگ محتسب نے بتایا کہ سال 2025 کے دوران بینکاری صارفین کو ایک ارب 87 کروڑ روپے کا مالی ریلیف فراہم کیا گیا، جبکہ شکایات کے ازالے کا پورا نظام صارفین کے لیے مکمل طور پر بلا معاوضہ ہے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے بڑی تعداد میں شکایات کے بروقت فیصلے اور بینکاری صارفین کو نمایاں ریلیف فراہم کرنے پر بینکنگ محتسب کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے ادارے عوام کو فوری اور مؤثر انصاف کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: آن لائن بینک فراڈ کیس میں وفاقی آئینی عدالت کا شہری کے حق میں فیصلہ
اس موقع پر بینکنگ محتسب سراج الدین عزیز نے بینکاری تنازعات کے حل میں مزید بہتری کے لیے عدلیہ سمیت متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے بہترین طریقہ کار کے تبادلے کے ذریعے تنازعات کے حل کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے بینکاری تنازعات کے مؤثر، شفاف اور شہری مرکز حل کے فروغ اور وسیع تر عدالتی اصلاحات کے لیے ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔














