چین کی ایک عدالت نے سابق سرکاری عہدیدار یانگ یولِن کو بڑے پیمانے پر رشوت لینے کے الزام میں سزائے موت سنا دی ہے۔ 69 سالہ یانگ پر 3 دہائیوں کے دوران 2.2 ارب یوآن سے زائد رشوت لینے کا الزام ثابت ہوا۔
یانگ یولِن نے 1993 سے 2023 تک چین کے شہر نانجنگ میں مختلف سرکاری عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ عدالت نے انہیں رشوت لینے کے علاوہ سرکاری فنڈز میں خردبرد، اختیارات کے ناجائز استعمال اور منی لانڈرنگ کا بھی مجرم قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: چین نے میانمار فراڈ اسکیمز سے منسلک 11 افراد کو موت کی سزا دے دی
سرکاری میڈیا کے مطابق یانگ نے رقم اور قیمتی اشیا کے عوض اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے مختلف افراد کو تعمیراتی منصوبوں کے ٹھیکے، زمین کی منتقلی اور مالی سہولیات حاصل کرنے میں مدد فراہم کی۔
عدالت کے مطابق 2014 سے 2016 کے دوران یانگ اور اس کے ساتھیوں نے 12 ملین یوآن کے سرکاری فنڈز میں خردبرد کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے غیر قانونی فوائد حاصل کرنے کے لیے دیگر سرکاری اہلکاروں کو 25 ملین یوآن سے زائد رشوت دی، 15 ملین یوآن کے عوامی فنڈز کو نجی کاروباری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا اور غیر قانونی زمین کی کارروائیوں کے ذریعے ریاست کو بھاری مالی نقصان پہنچایا۔
View this post on Instagram
یانگ کے خلاف کارروائی چین کے صدر شی جن پنگ کی جانب سے بدعنوانی کے خلاف جاری مہم کے تحت کی گئی، جس میں فوج، بینکاری اور دیگر شعبوں کے متعدد عہدیداروں کے خلاف کارروائیاں کی جا چکی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: چینی نژاد آسٹریلوی مصنف ڈاکٹر یانگ کو سزائے موت کیوں؟
چانگ ژو شہر کی عدالت نے قرار دیا کہ یانگ کے جرائم انتہائی سنگین نوعیت کے تھے اور ان سے ریاست اور عوام کو غیر معمولی نقصان پہنچا۔
چین میں سفید پوش جرائم میں سزائے موت کے فیصلے کم ہی سامنے آتے ہیں، تاہم ایک ارب یوآن سے زیادہ مالیت کی بدعنوانی کے بعض مقدمات میں ایسی سزائیں دی جاتی ہیں۔
اس سے قبل سابق چینی مالیاتی عہدیدار لائی شیاؤ من کو 1.8 ارب یوآن رشوت لینے کے جرم میں 2021 میں پھانسی دی گئی تھی، جبکہ اندرونی منگولیا کے سابق اہلکار لی جیان پنگ کو 2024 میں بدعنوانی کے جرم میں سزائے موت دی گئی۔
عدالت نے بتایا کہ یانگ نے جرم کا اعتراف کیا اور آخری بیان میں پشیمانی کا اظہار بھی کیا، تاہم عدالت کے مطابق جرائم کی سنگینی کے باعث ان کی جانب سے تفتیش میں تعاون بھی سزا میں نرمی کے لیے کافی نہیں تھا۔













