رہنما ایم کیو ایم فاروق ستار نے مطالبہ کیا ہے کہ سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ فوری طور پر عوام کے سامنے لائی جائے، کیونکہ یہ مفادِ عامہ کا معاملہ ہے اور شہریوں کو اس کی تفصیلات جاننے کا مکمل حق حاصل ہے۔
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ انفارمیشن کمیشن میں ان کے کیس کی تیسری سماعت ہوئی، جس میں محکمہ داخلہ سندھ کے 2 نمائندے پیش ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ سماعت کی آئندہ تاریخ 16 جولائی مقرر کی گئی ہے اور ان کی خواہش ہے کہ اسی روز کیس کا فیصلہ بھی سنایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ایم کیو ایم کا اپوزیشن میں جانے کا عندیہ، فاروق ستار کا وفاق کو الٹی میٹم
ان کا کہنا تھا کہ انفارمیشن کمیشن نے گیند محکمہ داخلہ کے کورٹ میں ڈال دی ہے، جبکہ قانون کے مطابق کمیشن کو 45 روز کے اندر اس معاملے کا فیصلہ کرنا چاہیے۔
فاروق ستار نے کہا کہ گل پلازہ سانحے میں تقریباً 100 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، اس لیے انکوائری رپورٹ کو خفیہ رکھنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر رپورٹ میں ایسی کیا بات ہے جسے چھپایا جا رہا ہے، اور بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ رپورٹ میں کسی بااثر شخصیت کا نام شامل ہے۔
انہوں نے سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں گزشتہ 18 برس سے بدترین طرزِ حکمرانی قائم ہے۔
مزید پڑھیں: فاروق ستار کا سازش کے تحت ایم کیو ایم کو دیوار سے لگانے کا الزام
ان کے بقول سندھ حکومت نے جوڈیشل انکوائری کمیٹی تشکیل دے کر خود اپنے لیے مشکلات پیدا کیں، اس لیے اب اس رپورٹ کو بھی منظرِ عام پر لانا چاہیے۔
فاروق ستار نے خبردار کیا کہ اگر گل پلازہ انکوائری رپورٹ جاری نہ کی گئی تو وہ اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کریں گے۔
انہوں نے وفاقی حکومت سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کرے، جبکہ وزیراعظم سندھ حکومت کی مبینہ کرپٹ طرزِ حکمرانی کا بھی نوٹس لیں۔














