امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اسپین کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات نہیں رکھنا چاہتے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت بھی بند کردینی چاہیے۔
ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اسپین نیٹو کا ایک ناقص شراکت دار ہے، وہ دفاعی اخراجات میں مناسب حصہ نہیں ڈالتا اور اپنے مالی وعدے پورے نہیں کرتا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا غیر محفوظ؟ اسکول فائرنگ اور 20 ہزار ڈالر کے خرچے نے امریکی خاندان کو اسپین منتقل ہونے پر مجبور کردیا
انہوں نے کہا کہ اسپین کے ساتھ تجارت اور دیگر روابط ختم کردیے جائیں، کیونکہ ان کے بقول اسپین دفاعی اتحاد میں اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب نیٹو کے رکن ممالک دفاعی اخراجات میں اضافے پر غور کررہے ہیں۔ اسپین واحد رکن ملک ہے جس نے سن 2035 تک مجموعی قومی پیداوار کا 5 فیصد دفاع پر خرچ کرنے کے ہدف سے اتفاق نہیں کیا۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے اس موقع پر کہا کہ اسپین نے گزشتہ برس دفاعی اخراجات میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور اب وہ اپنی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً 2 فیصد دفاع پر خرچ کررہا ہے، تاہم اس حوالے سے اب بھی بعض معاملات حل طلب ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسپین کے اپنے فوجی اڈے ایران کیخلاف استعمال نہ کرنے کے فیصلے پر ٹرمپ کی تجارتی تعلقات ختم کرنے کی دھمکی
دوسری جانب اسپین کے وزیراعظم کے دفتر نے ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اسپین کے درمیان تجارتی اور دفاعی تعلقات دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہیں۔
ادھر ٹرمپ نے ایک بار پھر نیٹو پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ دفاعی اتحاد کی موجودہ صورتحال سے مطمئن نہیں، اگرچہ انہوں نے نیٹو کے سیکریٹری جنرل کی قیادت کو سراہا۔
ٹرمپ کے بیانات کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی دیکھی گئی۔ اسپین کے سرکاری بانڈز کی پیداوار میں اضافہ ہوا، جبکہ اسپین کا مرکزی حصص بازار اور یورپ کے دیگر اہم حصص اشاریے بھی دباؤ کا شکار رہے۔ اسی دوران خام تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔














