کروشیا کے وزیر خارجہ و یورپی امور ڈاکٹر گورڈن گرلیچ راڈمین آج نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی دعوت پر پاکستان کا تاریخی سرکاری دورہ کریں گے۔ یہ کسی بھی کروشیائی وزیر خارجہ کا پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ ہوگا، جس میں تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، آئی ٹی، تعلیم اور علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
کروشیا کے وزیر خارجہ و یورپی امور ڈاکٹر گورڈن گرلیچ راڈمین آج (جمعرات) نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی دعوت پر پاکستان کے سرکاری دورے پر پہنچ رہے ہیں۔ دفتر خارجہ کے مطابق یہ کسی بھی کروشیائی وزیر خارجہ کا پاکستان کا پہلا باضابطہ سرکاری دورہ ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے سفارتی اور اقتصادی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسحاق ڈار سے سعودی سفیر کی ملاقات، خطے میں امن کے لیے مشترکہ کوششیں تیز کرنے کی ضرورت پر زور
دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق پاکستان اور کروشیا کے درمیان سفارتی تعلقات 1994 میں قائم ہوئے تھے اور دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ روابط برقرار ہیں۔ حالیہ برسوں میں دونوں حکومتوں نے تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، توانائی، تعلیم، بحری امور، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور عوامی روابط سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر خصوصی توجہ دی ہے۔
دورے کے دوران نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور کروشیا کے وزیر خارجہ کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوں گے، جن میں دوطرفہ تعلقات کے تمام اہم پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔
دفتر خارجہ کے مطابق مذاکرات میں تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ، ویزا سہولت، تعلیم، دفاع، انفارمیشن ٹیکنالوجی، بحری تعاون اور دیگر باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ دونوں رہنما علاقائی اور عالمی صورتحال پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کریں گے۔
کروشیا کے وزیر خارجہ اپنے دورۂ پاکستان کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیئرمین سینیٹ سے بھی ملاقات کریں گے، جن میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ اور مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے امکانات پر گفتگو ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں:فلسطین، جموں و کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد ناگزیر ہے، اسحاق ڈار
دفتر خارجہ نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ اعلیٰ سطح کا دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے اور باہمی مفاد کے شعبوں میں تعاون کو نئی جہت دینے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان اپنی معاشی اصلاحات کے ایجنڈے کے تحت غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کی کوششیں تیز کر رہا ہے۔ حکومت یورپی ممالک، خلیجی ریاستوں، وسطی ایشیا اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ اقتصادی تعاون کو وسعت دے کر براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے، برآمدات، روزگار کے مواقع اور پائیدار معاشی استحکام کو فروغ دینے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔














