امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ پیدائشی شہریت کے معاملے پر سپریم کورٹ سے اپنے حالیہ فیصلے پر دوبارہ سماعت کی درخواست کریں گے۔
یہ اعلان سپریم کورٹ کے گزشتہ ماہ آنے والے 6 کے مقابلے میں 3 ججوں کے فیصلے کے بعد سامنے آیا، جس میں عدالت نے ٹرمپ کے اس صدارتی حکم کو مسترد کردیا تھا جس کے تحت غیرقانونی طور پر یا عارضی بنیادوں پر امریکا میں مقیم والدین کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں کو خودکار امریکی شہریت سے محروم کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی شہریت کے قانون پر کشمکش، ٹرمپ کا ممکنہ عدالتی فیصلے پر سخت ردعمل
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک بیان میں کہا کہ’امریکی شہریت فروخت کے لیے نہیں ہے،‘ اور انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض اسپتال بیرون ملک سے آنے والی حاملہ خواتین کو امریکا میں بچوں کی پیدائش کی ترغیب دے رہے ہیں، جسے انہوں نے’برتھ ٹورازم‘ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ سے فوری طور پر اس مقدمے کی دوبارہ سماعت کی درخواست کریں گے۔
دوسری جانب سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ امریکی آئین کی 14ویں ترمیم کے تحت امریکا میں پیدا ہونے والے اور امریکی قانون کے دائرہ اختیار میں آنے والے افراد کو شہریت حاصل ہوتی ہے۔
چیف جسٹس جان رابرٹس نے اکثریتی فیصلہ تحریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس آئینی تشریح پر ایک صدی سے زائد عرصے سے عمل کیا جارہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ’برتھ ٹورازم‘: امریکی سپریم کورٹ نے پیدائشی شہریت پر پابندیوں کی ڈونلڈ ٹرمپ کی کوشش مسترد کر دی
قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے مکمل سماعت کے بعد دیے گئے فیصلے پر نظرثانی کی درخواستیں شاذ و نادر ہی منظور کی جاتی ہیں، اس لیے ٹرمپ کو اس معاملے میں قانونی طور پر سخت چیلنج کا سامنا ہوسکتا ہے۔
پیدائشی شہریت ختم کرنے کی کوشش صدر ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسی کا اہم حصہ رہی ہے، تاہم عدالت نے آئین کی بنیاد پر اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے موجودہ تشریح برقرار رکھی۔














