جون 2026 میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری آتشزدگی کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے 2 مرکزی ملزمان کی سزائے موت کالعدم قرار دے کر انہیں بری کرنے کا حکم دیا تاہم اس فیصلے کے بعد کچھ سوالات اٹھنا شروع ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: سزائے موت کالعدم،سپریم کورٹ نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کیس میں ملزمان بری کر دیے
مذکورہ سانحہ پاکستان کی تاریخ کے بدترین صنعتی حادثات میں شمار ہوتا ہے جس میں 260 سے زائد مزدور جان کی بازی ہار گئے تھے۔ بریت کے فیصلے کے بعد ایک بار پھر اس مقدمے میں تشکیل دی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی قانونی حیثیت اور تحقیقات کے معیار پر نئے سوالات سامنے آئے ہیں۔
پاکستان میں جے آئی ٹیز کی قانونی حیثیت اور عملی کردار
پاکستان میں ہائی پروفائل مقدمات کی تفتیش اور حقائق تک پہنچنے کے لیے جے آئی ٹی کی تشکیل ایک معمول بن چکی ہے۔ ایسے مقدمات میں جے آئی ٹی کی رپورٹس اکثر میڈیا کی نمایاں سرخیوں کا حصہ بنتی ہیں اور عوامی دباؤ کم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں تاہم جب یہی مقدمات عدالتی ٹرائل کے مرحلے میں داخل ہوتے ہیں تو استغاثہ کو متعدد قانونی اور تکنیکی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس اس کی ایک نمایاں اور المناک مثال ہے جہاں جے آئی ٹی کی رپورٹس اور بیانات قانونی سقم اور شہادتوں کی کمزوری کے باعث بعض ملزمان کی بریت اور بعض کی سزاؤں میں تبدیلی کا سبب بنے۔
جے آئی ٹی کی قانونی حیثیت اور بنیادی مقصد
ماہر قانون خیر محمد خٹک کے مطابق پاکستان میں جے آئی ٹی کی تشکیل عموماً انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 (اے ٹی اے) یا اعلیٰ عدالتوں کے خصوصی احکامات کے تحت کی جاتی ہے۔
مزید پڑھیے: کراچی بلدیہ ٹاؤن فیکٹری آگ سے میرا یا حماد صدیقی کا کوئی تعلق نہیں، مجرم رحمان بھولا
انہوں نے کہا کہ اس کا بنیادی مقصد مختلف انٹیلیجنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر کسی پیچیدہ یا ہائی پروفائل مقدمے کی جامع تفتیش کرنا اور اس کے مختلف پہلوؤں کو جوڑنا ہوتا ہے۔
جے آئی ٹی کی بنیادی قانونی کمزوری
خیر محمد خٹک کا کہنا ہے کہ قانون شہادت (لا آف ایویڈنس) کے تحت جے آئی ٹی کے سامنے دیا گیا بیان یا اس کی فائنڈنگز بذاتِ خود عدالت میں حتمی شہادت نہیں سمجھی جاتیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ جے آئی ٹی دراصل ایک تفتیشی رپورٹ ہوتی ہے، نہ کہ چالان یا عدالتی فیصلہ، اس لیے اس میں درج معلومات کو عدالت میں قابل قبول شواہد کے ذریعے ثابت کرنا ضروری ہوتا ہے۔
تفتیش اور عدالتی ٹرائل کا فرق
قانونی ماہر عثمان فاروق کے مطابق ستمبر 2012 میں پیش آنے والے اس ہولناک سانحے میں 260 سے زائد مزدور زندہ جل کر جاں بحق ہوئے تھے۔ ان کے بقول یہ مقدمہ اس حقیقت کی واضح مثال ہے کہ جے آئی ٹی کی تفتیشی رپورٹ ٹرائل کے دوران اپنی قانونی اہمیت کس حد تک کھو سکتی ہے۔
جے آئی ٹی کی فائنڈنگز کیا تھیں؟
عثمان فاروق کے مطابق طویل تفتیش اور شدید سیاسی دباؤ کے بعد جے آئی ٹی اس نتیجے پر پہنچی تھی کہ یہ حادثہ نہیں بلکہ 20 کروڑ روپے بھتہ نہ دینے پر کیمیکل چھڑک کر لگائی گئی منظم دہشتگردی تھی۔
تاہم جب مقدمہ انسدادِ دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) میں زیر سماعت آیا تو جے آئی ٹی رپورٹ میں شامل کئی اہم اور سنسنی خیز انکشافات کو قانونی شہادتوں میں تبدیل نہیں کیا جا سکا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ جے آئی ٹی کی متعدد فائنڈنگز سماعتی معلومات (Hearsay Evidence) پر مبنی تھیں جنہیں عدالت میں قابل قبول شواہد سے ثابت نہیں کیا جا سکا۔
نتیجتاً کئی اہم ملزمان کے خلاف مضبوط دستاویزی یا عینی شاہدین کے ثبوت پیش نہ کیے جا سکے جس سے استغاثہ کا مقدمہ کمزور پڑ گیا اور بعض نامزد ملزمان بری ہو گئے۔ جبکہ جن ملزمان کو سزا سنائی گئی وہ بھی جے آئی ٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر نہیں بلکہ روایتی پولیس تفتیش، فرانزک شواہد اور میڈیکل رپورٹس کی بنیاد پر دی گئی۔
جے آئی ٹیز ملزمان کو سزا دلوانے میں کیوں ناکام رہتی ہیں؟
خیر محمد خٹک کے مطابق ہائی پروفائل مقدمات میں جے آئی ٹی کی رپورٹس ٹرائل کورٹ میں اپنی مؤثریت کھو دیتی ہیں جس کی کئی بنیادی وجوہات ہیں۔
مزید پڑھیں: وہ اعترافی بیانات جن سے براہِ راست اعلیٰ سیاسی قیادت متاثر ہوئی
انہوں نے کہا کہ پاکستانی نظام انصاف میں کسی بھی جرم کو شک و شبہے سے بالاتر ہو کر ثابت کرنا لازم ہوتا ہے جبکہ جے آئی ٹی کی رپورٹس اکثر انٹیلیجنس معلومات پر مبنی ہوتی ہیں۔ ایسی معلومات کو عدالت میں قابل قبول بنانے کے لیے متعلقہ گواہوں اور شواہد کے ذریعے ثابت کرنا ضروری ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی گواہ عدالت میں منحرف ہو جائے یا جے آئی ٹی کے سامنے دیا گیا بیان دہرانے سے انکار کر دے تو پوری رپورٹ قانونی حیثیت کھو بیٹھتی ہے۔
تفتیش اور استغاثہ میں ہم آہنگی کا فقدان
خیر محمد خٹک کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی اپنی رپورٹ مرتب کرکے حکومت یا متعلقہ عدالت کو جمع کرا دیتی ہے جس کے بعد مقدمہ صوبائی پراسیکیوٹرز کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔ تاہم اکثر پراسیکیوٹرز کو تفتیشی عمل کا حصہ ہی نہیں بنایا جاتا جس کے باعث وہ عدالت میں جے آئی ٹی کی رپورٹ کا مؤثر اور قانونی انداز میں دفاع نہیں کر پاتے۔
سیاسی مقاصد اور میڈیا ٹرائل
خیر محمد خٹک کے مطابق متعدد ہائی پروفائل مقدمات میں جے آئی ٹی کا مقصد حقائق تک پہنچنے کے بجائے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانا یا پریس کانفرنسوں کے ذریعے میڈیا ٹرائل کرنا بن جاتا ہے۔ جب تفتیش کا محور قانونی شواہد کے بجائے سیاسی بیانیہ بن جائے تو اصل ثبوت پسِ پشت چلے جاتے ہیں جس کا فائدہ ملزمان کے وکلا عدالتی کارروائی کے دوران اٹھاتے ہیں۔
گواہوں کو تحفظ نہ ملنا بھی بڑا مسئلہ
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ہائی پروفائل مقدمات میں سرکاری استغاثہ کی نمائندگی کرنے والی ایک شخصیت نے بتایا کہ عزیر جان بلوچ کی مثال سب کے سامنے ہے جو 2 درجن سے زائد مقدمات میں بری ہو چکے ہیں۔ وکیل کے مطابق استغاثہ عدالتوں سے بارہا گواہ پیش کرنے کے لیے مہلت طلب کرتا ہے لیکن ایک مرحلے پر ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ جرم کرنے والا شخص انصاف فراہم کرنے والے اداروں سے بھی زیادہ محفوظ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ طاقتور ملزمان کے خلاف گواہی دینے والے افراد کو ریاست مؤثر تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ جے آئی ٹی کے سامنے بے خوف ہو کر بیان دینے والے گواہ ٹرائل کورٹ میں خوف، دباؤ یا دیگر وجوہات کی بنا پر اپنے بیانات سے منحرف ہو جاتے ہیں۔
سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس ہو یا دیگر ہائی پروفائل مقدمات، پاکستان کا عدالتی ریکارڈ یہی ظاہر کرتا ہے کہ جے آئی ٹی کسی مقدمے کی تفتیش کا ابتدائی رخ تو متعین کر سکتی ہے لیکن اگر استغاثہ ان فائنڈنگز کو مضبوط، قانونی اور ناقابلِ تردید شواہد میں تبدیل نہ کر سکے تو جے آئی ٹی کی ضخیم رپورٹس بھی عدالت میں ملزمان کو سزا دلوانے کے لیے مؤثر ثابت نہیں ہوتیں۔
یہ بھی پڑھیے: بھتے کے لیے اغوا کرنا ایم کیو ایم کا سگنیچر ہے لیکن پارٹی نے کسی کو زندہ نہیں جلایا، مصطفیٰ کمال
اس لیے ماہرین کے مطابق صرف جے آئی ٹی تشکیل دینا کافی نہیں بلکہ تفتیش، استغاثہ، گواہوں کے تحفظ اور ناقابل تردید شواہد کے درمیان مضبوط ہم آہنگی ہی ایسے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچا سکتی ہے۔












