ایچ آئی وی کے بڑھتے کیسز، وفاقی وزیر صحت نے نائٹ پارٹی کلچر پر خطرے کی گھنٹی بجا دی

جمعہ 10 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے انکشاف کیا ہے کہ بڑے شہروں میں نائٹ پارٹی کلچر، منشیات کے استعمال اور اس کے بعد ہونے والی غیر محفوظ جنسی سرگرمیاں ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت آبادی میں اضافے پر قابو پانے اور تولیدی صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے بھی عملی اقدامات کر رہی ہے۔

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ بڑے شہروں میں فروغ پانے والا نائٹ پارٹی کلچر، منشیات کا استعمال اور اس کے بعد ہونے والی غیر محفوظ جنسی سرگرمیاں ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے کیسز کی اہم وجوہات ہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق اور صحت کا اجلاس سینیٹر ثمینہ زہری اور سینیٹر عامر ولیدالدین کی زیر صدارت ہوا، جس میں “دی نیشنل پاپولیشن کوآرڈینیشن اینڈ ری پروڈکٹیو ہیلتھ بل 2026” پر غور کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:ایچ آئی وی اور یپاٹائٹس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ملک میں غیرمعیاری سرنجوں کی تیاری و استعمال پر پابندی

اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نائٹ پارٹیز میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ شدید تشویش کا باعث ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ منشیات کے استعمال کے بعد نوجوانوں میں غیر محفوظ جنسی رویے ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں، جس پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف آبادی میں اضافے کے مسئلے پر انتہائی سنجیدہ ہیں اور اس حوالے سے متعدد اجلاسوں کی صدارت کر چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی وزیر احسن اقبال، وزیر خزانہ اور دیگر متعلقہ حکام پر مشتمل ایک کمیٹی اس معاملے پر باقاعدگی سے کام کر رہی ہے۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ موجودہ این ایف سی ایوارڈ میں 82 فیصد حصہ آبادی کی بنیاد پر تقسیم کیا جاتا ہے، جس سے صوبوں کو آبادی بڑھانے کا بالواسطہ ترغیبی اشارہ ملتا ہے، جبکہ پڑوسی ممالک میں آبادی کا ویٹیج صرف 17 فیصد کے قریب ہے۔ ان کے بقول پاکستان میں اگر کوئی صوبہ آبادی میں کمی لاتا ہے تو اس کے مالی وسائل بھی متاثر ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ویکسین کی مقامی تیاری میں انڈونیشیا پاکستان کا ’کلیدی شراکت دار بن گیا، مصطفیٰ کمال

مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ وزیراعظم اور وزیر خزانہ کی کاوشوں سے رواں مالی سال کے بجٹ میں مانع حمل ادویات پر تمام ٹیکس ختم کر دیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق ٹیکسوں کے خاتمے اور مانع حمل ذرائع کی آسان دستیابی سے سالانہ آبادی میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد تک کمی لانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 67 لاکھ بچوں کی پیدائش ہو رہی ہے، جس کے پیش نظر آبادی پر قابو پانے اور تولیدی صحت سے متعلق مؤثر پالیسیوں پر عمل درآمد ناگزیر ہو چکا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

حکومت کا 2 روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، خطے کی صورتحال اور پاک سعودی تعلقات پر تبادلہ خیال

جنوبی وزیرستان:سیکیورٹی فورسز نے خودکش حملہ ناکام بنا دیا، 4 فتنہ الخوارج دہشتگرد ہلاک

مون سون بارشیں جاری، چناب میں درمیانے درجے کے سیلاب اور کئی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ

ویڈیو

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال کا دعویٰ، کراچی سب سے زیادہ ٹیکس دیتا ہے، حقیقت کیا ہے؟

آزاد کشمیر الیکشن: گہما گہمی عروج پر پہنچ گئی، کس کا پلڑا بھاری؟

پہلا ٹیسٹ: برائن لارا اسٹیڈیم میں ویسٹ انڈیز کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری

کالم / تجزیہ

ہوا دان، منگھ، بادگیر یا بادکش

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار