چین نے دوبارہ استعمال کے قابل راکٹ ٹیکنالوجی کی جانب اہم پیشرفت کرتے ہوئے سمندر میں نصب پلیٹ فارم پر جال کی مدد سے تجرباتی راکٹ کی کامیاب بازیابی کا تجربہ کرلیا ہے، جسے امریکی برتری کو چیلنج کرنے کی سمت ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:چینی روایتی موسیقی کی محفل، نوجوان فنکاروں کی مشترکہ پرفارمنس
چینی سرکاری میڈیا کے مطابق لانگ مارچ 10 بی (Long March 10B) راکٹ کو جنوبی چین کے ہینان کمرشل اسپیس لانچ سائٹ سے مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بج کر 15 منٹ پر خلا میں بھیجا گیا۔ پرواز کے قریباً 6 منٹ بعد راکٹ کا بوسٹر مرکزی حصے سے الگ ہو کر عمودی انداز میں واپس آیا اور سمندر میں موجود خصوصی پلیٹ فارم پر نصب جال میں کامیابی سے پکڑ لیا گیا۔
Breaking: China successfully recovered the first stage of a Long March-10B rocket at sea for the first time after launch from Wenchang.pic.twitter.com/kMvhdxcZM3
— Tango-1 (@tangonoonep35) July 10, 2026
یہ پہلا موقع ہے کہ چین نے مدار میں جانے کی صلاحیت رکھنے والے راکٹ کے بوسٹر کو کامیابی سے واپس حاصل کیا ہے، جس سے ملک دوبارہ استعمال ہونے والے راکٹوں کی تیاری کے ہدف کے مزید قریب پہنچ گیا ہے۔
اس کامیابی کے بعد چینی خلائی کمپنیوں کے حصص میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جبکہ چائنا اسپیس سیٹ اور چائنا سیٹلائٹ کمیونیکیشنز کے شیئرز یومیہ حد تک بڑھ گئے۔
لانگ مارچ 10 بی کو امریکی کمپنی اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ کا حریف تصور کیا جا رہا ہے۔ یہ راکٹ کم از کم 16 ٹن وزن کو زمین کے نچلے مدار میں پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم فالکن 9 کے برعکس یہ راکٹ اپنے لینڈنگ پیروں پر نہیں اترتا بلکہ خصوصی لینڈنگ ہکس کے ذریعے سمندری پلیٹ فارم پر نصب جال میں پکڑا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں:چین: جوتوں کی فیکٹری میں آتشزدگی، 28 افراد ہلاک
چین گزشتہ تقریباً ایک دہائی سے دوبارہ استعمال ہونے والے راکٹوں کی ٹیکنالوجی پر کام کر رہا ہے۔ اس ٹیکنالوجی سے خلائی مشنز کے اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی اور چین کے تیزی سے پھیلتے سیٹلائٹ پروگرام کو فروغ ملے گا۔
رپورٹ کے مطابق لانگ مارچ 10 سیریز چین کے 2030 سے قبل مجوزہ انسانی چاند مشن کا بھی حصہ ہے، جبکہ سرکاری ٹی وی سی سی ٹی وی کا کہنا ہے کہ اسی بوسٹر کو رواں سال کے اختتام سے قبل ایک اور پرواز میں دوبارہ استعمال کرنے کا منصوبہ بھی بنایا گیا ہے۔













