بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) اور اقوامِ متحدہ کی 3 بڑی ایجنسیوں نے ملک سے غذائی قلت کے خاتمے اور سالانہ 17 ارب ڈالر کے معاشی و طبی بحران سے نمٹنے کے لیے ’بے نظیر نشوونما پروگرام‘ میں 3 سال کی تاریخی توسیع کا معاہدہ کر لیا ہے۔
بینظیرانکم اسپورٹ پروگرام کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ’بینظیر نشوونما پروگرام‘ کے تحت مزید 33 لاکھ شدید غذائی قلت کا شکار کمزور بچوں اور خواتین کو محفوظ رکھا جائے گا۔
پروگرام کا تیسرا مرحلہ اور نئے اہداف
معاہدے کے مطابق اس مشترکہ اقدام میں اقوامِ متحدہ کا ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی)، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) اور یونیسیف شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بینظیر انکم اسپورٹ پروگرام نے پاکستان کی غریب خواتین کو شناخت دی، سینیٹر روبینہ خالد
پروگرام کے اس تیسرے مرحلے ’بی این پی‘ 3.0 کے بعد، سال 2020 میں شروع ہونے والے اس منصوبے کے مستفید ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 47 لاکھ سے بڑھ کر 80 لاکھ (8 ملین) تک پہنچ جائے گی۔
غذائی قلت کا سنگین بحران اور معاشی نقصان
پاکستان کو اس وقت غذائی قلت کے شدید بحران کا سامنا ہے، جہاں 5 سال سے کم عمر کے ہر 10 میں سے 4 بچے (تقریباً 10 ملین بچے) دائمی غذائی قلت کے باعث ‘اسٹنٹنگ’ (جسمانی و ذہنی نشوونما میں کمی) کا شکار ہیں۔
اعلامیے کے مطابق اس کے علاوہ چوں میں ’ویسٹنگ‘ (شدید کمزوری) کی شرح 17.7 فیصد ہے، جس سے 50 لاکھ بچے متاثر ہو رہے ہیں۔ اس انسانی المیے کی وجہ سے ملک کو سالانہ تقریباً 17 ارب امریکی ڈالر کا بھاری معاشی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بینظیر بھٹو کی برسی پر جلسہ: 9 مئی جیسے اقدامات اور اداروں کو گالیاں دینا سیاسی دائرے میں نہیں آتا، بلاول بھٹو
ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ملک بھر میں 578 سہولتی مراکز اور 224 نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن مراکز کا نیٹ ورک قائم ہے، جو حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں اور 2 سال سے کم عمر کے بچوں کو صحت و غذائیت کی بنیادی خدمات فراہم کرتا ہے۔
عالمی سطح پر تسلیم شدہ نتائج
اس پروگرام کے اب تک کے حاصل کردہ نتائج کو دنیا بھر میں کسی بھی نیوٹریشن پروگرام کے لیے بہترین قرار دیا گیا ہے
’اسٹنٹنگ‘ میں 22 فیصذ کمی
پروگرام میں شامل بچوں میں 6 ماہ کی عمر تک پہنچنے پر نشوونما کی کمی کا امکان 22 فیصد تک کم پایا گیا۔
ماں کی صحت میں بہتری
دورانِ حمل کیے جانے والے لازمی طبی معائنوں (اینٹی نیٹل کیئر) کے رجحان میں واضح اضافہ دیکھا گیا۔
پیدائش کے محفوظ نتائج
شواہد کے مطابق اس پروگرام سے دورانِ حمل ماؤں کے وزن میں صحت مند اضافہ ہوا اور بچوں کے زندہ بچنے کی شرح میں بھی بہتری آئی۔
بینظیر انکم اسپورٹ پروگرام کا عزز
اعلامے کے مطابق بی آئی ایس پی کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’آج بی این پی 3.0 پر دستخط محض ایک پروگرام کا تسلسل نہیں، بلکہ ہر بچے کو صحت مند زندگی کی شروعات دینے کا ایک نیا قومی عزم ہے تاکہ غربت کی وجہ سے کوئی بھی ماں یا بچہ پیچھے نہ چھوٹ جائے۔‘
مزید پڑھیں:بینظیر انکم اسپورٹ پروگرام کی رقوم بینک اکاؤنٹس میں براہ راست منتقلی کا فریم ورک جاری
پاکستان میں ڈبلیو ایف پی کی کنٹری ڈائریکٹر انیتا ہرش نے نتائج کو ’انتہائی امید افزا‘ قرار دیتے ہوئے حکومتِ پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کا عزم دہرایا۔
یونیسیف کی ڈپٹی نمائندہ شرمیلا رسول کا کہنا تھا کہ غذائیت پر سرمایہ کاری دراصل پاکستان کے مستقبل پر سرمایہ کاری ہے، جبکہ ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ڈاکٹر لو ڈاپینگ نے اس بات پر زور دیا کہ یہ نتائج صحت، غذائیت، سماجی تحفظ اور تعلیم جیسے شعبوں کو یکجا کرنے والے سائنسی طریقوں کی طاقت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔














