یورپی یونین کا میٹا کو حریف اے آئی چیٹ بوٹس کے لیے واٹس ایپ کھولنے کا حکم

منگل 9 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یونین نے ٹیکنالوجی کمپنی میٹا کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے مقبول میسجنگ پلیٹ فارم واٹس ایپ پر حریف کمپنیوں کے مصنوعی ذہانت یا اے آئی چیٹ بوٹس کو مفت رسائی فراہم کرے تاکہ صارفین مختلف اے آئی سروسز استعمال کرنے کا انتخاب خود کر سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ نے کاروباری چیٹس کو خودکار بنانے کے لیے جدید ترین اے آئی اسسٹنٹ متعارف کرا دیا

یورپی کمیشن کے مطابق میٹا نے دسمبر 2025 میں واٹس ایپ بزنس اے پی آئی  پر تھرڈ پارٹی اے آئی اسسٹنٹس کی رسائی محدود کر دی تھی اور صرف اپنے  میٹا اے آئی کو اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی تھی۔ کمیشن کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام یورپی مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی اور مارکیٹ میں میٹا کی غالب حیثیت کے ممکنہ ناجائز استعمال کے مترادف ہے۔

تحقیقات جاری رہنے کے دوران یورپی کمیشن نے عبوری حکم جاری کرتے ہوئے میٹا کو پانچ کاروباری دنوں کے اندر حریف اے آئی چیٹ بوٹس کی سابقہ شرائط کے تحت واٹس ایپ بزنس تک رسائی بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ تیزی سے بدلتی ہوئی اے آئی مارکیٹ میں مقابلے کو نقصان پہنچنے سے روکنے کے لیے یہ اقدام ضروری ہے۔

یورپی کمیشن کی نائب صدر تیریسا ریبیرا نے کہا کہ اگر بروقت مداخلت نہ کی جائے تو مسابقت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس فیصلے کا مقصد یورپی صارفین کو یہ حق دینا ہے کہ وہ اپنی پسند کے اے آئی اسسٹنٹس کا انتخاب خود کریں نہ کہ یہ فیصلہ کسی ایک کمپنی کی جانب سے ان پر مسلط کیا جائے۔

مزید پڑھیے: واٹس ایپ کا نیا فیچر، آن لائن صارفین کی نشاندہی کے لیے گرین ڈاٹ کی آزمائش شروع

دوسری جانب میٹا نے اس فیصلے کو ’ضابطہ جاتی حد سے تجاوز‘ قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ اس کے خلاف اپیل کرے گی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یورپی کمیشن کا فیصلہ اوپن اے آئی اور دیگر بڑی اے آئی کمپنیوں کو واٹس ایپ بزنس کی ایسی سروس مفت استعمال کرنے کی اجازت دے رہا ہے جس کے لیے دیگر کاروباری ادارے ادائیگی کرتے ہیں۔

یورپی کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر میٹا نے حکم پر عمل نہ کیا تو کمپنی کو اپنے عالمی سالانہ کاروبار کے 10 فیصد تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ تنازع یورپی ریگولیٹرز اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی تازہ مثال ہے۔ حالیہ برسوں میں یورپی یونین متعدد مواقع پر میٹا سمیت بڑی امریکی ٹیک کمپنیوں پر جرمانے عائد کر چکی ہے جبکہ امریکی حلقے اکثر یورپی ضابطوں کو امریکی کمپنیوں کے خلاف سخت رویہ قرار دیتے ہیں۔

مزید پڑھیں: واٹس ایپ صارفین ہوشیار! رجسٹرڈ اور فعال سم کا استعمال لازمی قرار

ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف واٹس ایپ اور اے آئی مارکیٹ کے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بڑی ٹیک کمپنیوں کے اختیارات اور مسابقتی قوانین کے درمیان جاری کشمکش میں بھی ایک اہم پیشرفت سمجھا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ یورپی یونین نے میٹا کو صرف یورپی مارکیٹ میں واٹس ایپ کو حریف اے آئی چیٹ بوٹس کے لیے کھولنے کا حکم دیا ہے اس لیے یہ خود بخود پاکستان، امریکا، برطانیہ، خلیجی ممالک یا دیگر خطوں پر لاگو نہیں ہوتا لیکن بعض اوقات بڑی ٹیک کمپنیاں مختلف خطوں کے لیے الگ نظام چلانے کے بجائے ایک ہی پالیسی پوری دنیا میں نافذ کر دیتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: واٹس ایپ پر چیٹس کا رش ختم: اب نظر آئے گا صرف وہی، جو آپ چاہیں گے

ماہرین کے مطابق امکان موجود ہے کہ میٹا انتظامی آسانی اور یکساں پالیسی کے لیے مستقبل میں یہ سہولت دیگر ممالک تک بھی توسیع دے۔ اگر میٹا ایسا فیصلہ کرے تو یورپ سے باہر کے صارفین بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کالعدم ایکشن کمیٹی ممبران شوکت نواز اور خواجہ مہران کے خلاف بغاوت کے الزام میں مقدمہ درج

صدر مملکت نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس طلب کرنے کی منظوری دیدی

پاک روس تعلقات پر اہم ویبینار، شرکا نے دوطرفہ تعاون کے نئے امکانات اجاگر کر دیے

’پیف‘ اسکولوں کے نتائج سرکاری اداروں سے بہتر ہیں، وزیر تعلیم پنجاب کا اساتذہ کے لیے بڑا اعلان

آبنائے ہرمز میں امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرایا گیا، امریکا ایران کو لازماً جواب دے گا، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

ویڈیو

پاک روس تعلقات پر اہم ویبینار، شرکا نے دوطرفہ تعاون کے نئے امکانات اجاگر کر دیے

کالعدم ایکشن کمیٹی بیرونی ایجنڈے پر، سیکیورٹی اہلکاروں پر حملے، کال بھی لیک ہوگئی

نوابزادہ جمال رئیسانی کا تیزاب گردی میں ملوث ملزمان کو سزائے موت دینے کا مطالبہ

کالم / تجزیہ

چاچا کرکٹ صرف تماشائی نہیں تھا

میں انس عبیداللہ عابد کے جنازے میں کیوں نہیں گیا؟

کشمیر ایکشن کمیٹی کیا چاہتی ہے؟