یونین نے ٹیکنالوجی کمپنی میٹا کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے مقبول میسجنگ پلیٹ فارم واٹس ایپ پر حریف کمپنیوں کے مصنوعی ذہانت یا اے آئی چیٹ بوٹس کو مفت رسائی فراہم کرے تاکہ صارفین مختلف اے آئی سروسز استعمال کرنے کا انتخاب خود کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ نے کاروباری چیٹس کو خودکار بنانے کے لیے جدید ترین اے آئی اسسٹنٹ متعارف کرا دیا
یورپی کمیشن کے مطابق میٹا نے دسمبر 2025 میں واٹس ایپ بزنس اے پی آئی پر تھرڈ پارٹی اے آئی اسسٹنٹس کی رسائی محدود کر دی تھی اور صرف اپنے میٹا اے آئی کو اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی تھی۔ کمیشن کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام یورپی مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی اور مارکیٹ میں میٹا کی غالب حیثیت کے ممکنہ ناجائز استعمال کے مترادف ہے۔
تحقیقات جاری رہنے کے دوران یورپی کمیشن نے عبوری حکم جاری کرتے ہوئے میٹا کو پانچ کاروباری دنوں کے اندر حریف اے آئی چیٹ بوٹس کی سابقہ شرائط کے تحت واٹس ایپ بزنس تک رسائی بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ تیزی سے بدلتی ہوئی اے آئی مارکیٹ میں مقابلے کو نقصان پہنچنے سے روکنے کے لیے یہ اقدام ضروری ہے۔
یورپی کمیشن کی نائب صدر تیریسا ریبیرا نے کہا کہ اگر بروقت مداخلت نہ کی جائے تو مسابقت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس فیصلے کا مقصد یورپی صارفین کو یہ حق دینا ہے کہ وہ اپنی پسند کے اے آئی اسسٹنٹس کا انتخاب خود کریں نہ کہ یہ فیصلہ کسی ایک کمپنی کی جانب سے ان پر مسلط کیا جائے۔
مزید پڑھیے: واٹس ایپ کا نیا فیچر، آن لائن صارفین کی نشاندہی کے لیے گرین ڈاٹ کی آزمائش شروع
دوسری جانب میٹا نے اس فیصلے کو ’ضابطہ جاتی حد سے تجاوز‘ قرار دیتے ہوئے شدید تنقید کی ہے اور اعلان کیا ہے کہ وہ اس کے خلاف اپیل کرے گی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یورپی کمیشن کا فیصلہ اوپن اے آئی اور دیگر بڑی اے آئی کمپنیوں کو واٹس ایپ بزنس کی ایسی سروس مفت استعمال کرنے کی اجازت دے رہا ہے جس کے لیے دیگر کاروباری ادارے ادائیگی کرتے ہیں۔
یورپی کمیشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر میٹا نے حکم پر عمل نہ کیا تو کمپنی کو اپنے عالمی سالانہ کاروبار کے 10 فیصد تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ تنازع یورپی ریگولیٹرز اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کی تازہ مثال ہے۔ حالیہ برسوں میں یورپی یونین متعدد مواقع پر میٹا سمیت بڑی امریکی ٹیک کمپنیوں پر جرمانے عائد کر چکی ہے جبکہ امریکی حلقے اکثر یورپی ضابطوں کو امریکی کمپنیوں کے خلاف سخت رویہ قرار دیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: واٹس ایپ صارفین ہوشیار! رجسٹرڈ اور فعال سم کا استعمال لازمی قرار
ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ نہ صرف واٹس ایپ اور اے آئی مارکیٹ کے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بڑی ٹیک کمپنیوں کے اختیارات اور مسابقتی قوانین کے درمیان جاری کشمکش میں بھی ایک اہم پیشرفت سمجھا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ یورپی یونین نے میٹا کو صرف یورپی مارکیٹ میں واٹس ایپ کو حریف اے آئی چیٹ بوٹس کے لیے کھولنے کا حکم دیا ہے اس لیے یہ خود بخود پاکستان، امریکا، برطانیہ، خلیجی ممالک یا دیگر خطوں پر لاگو نہیں ہوتا لیکن بعض اوقات بڑی ٹیک کمپنیاں مختلف خطوں کے لیے الگ نظام چلانے کے بجائے ایک ہی پالیسی پوری دنیا میں نافذ کر دیتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: واٹس ایپ پر چیٹس کا رش ختم: اب نظر آئے گا صرف وہی، جو آپ چاہیں گے
ماہرین کے مطابق امکان موجود ہے کہ میٹا انتظامی آسانی اور یکساں پالیسی کے لیے مستقبل میں یہ سہولت دیگر ممالک تک بھی توسیع دے۔ اگر میٹا ایسا فیصلہ کرے تو یورپ سے باہر کے صارفین بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔













