دنیا کے امیر ترین کاروباری شخص اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر ان کی کمپنی اپنے طویل المدتی اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی تو اس کی مالیت پوری زمین کی مجموعی مالیت سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔
ایلون مسک نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر ایک صارف کے تبصرے کے جواب میں کہا، ‘آپ یہ نہیں سمجھ رہے کہ اگر ہم اپنے مقاصد حاصل کر لیتے ہیں تو اسپیس ایکس کی مالیت باقی پوری زمین سے زیادہ ہوگی۔’
یہ بھی پڑھیں: اسپیس ایکس کے ہزاروں شیئر ہولڈرز کی دولت میں غیرمعمولی اضافہ، ایلون مسک کھرب پتی بن گئے
ایلون مسک کا یہ بیان اسپیس ایکس کے اس وژن کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت کمپنی انسانوں کو زمین سے باہر مستقل آبادیاں قائم کرنے کے قابل بنانا چاہتی ہے۔ اس مقصد کے لیے اسپیس ایکس کا اسٹار شپ پروگرام مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جسے مستقبل میں چاند اور مریخ تک انسانی سفر کے لیے استعمال کرنے کا منصوبہ ہے۔
ماہرین کے مطابق ایلون مسک کے اس بیان نے مالیاتی اور ٹیکنالوجی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر خلائی معیشت مستقبل میں بڑے پیمانے پر ترقی کرتی ہے تو اسپیس ایکس عالمی معیشت کی طاقتور ترین کمپنیوں میں شامل ہو سکتی ہے۔
ادھر سرمایہ کاری کے ادارے جے پی مورگن نے حال ہی میں اسپیس ایکس اور ٹیسلا کے درمیان ممکنہ انضمام کو حکمت عملی کے لحاظ سے موزوں قرار دیا تھا، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے کسی بھی اقدام کے لیے مختلف ممالک، خصوصاً چین سمیت متعدد ریگولیٹری اداروں کی منظوری درکار ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: دولت کمانے کی دوڑ، ایلون مسک نے نیا ریکارڈ اپنے نام کرلیا
ایلون مسک کے بیان پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آیا۔ بعض صارفین نے اسے مستقبل کے خلائی منصوبوں پر اعتماد قرار دیا، جبکہ بعض نے خبردار کیا کہ کسی ایک کمپنی کو اتنی بڑی معاشی طاقت حاصل کرنے کی اجازت دینا ممکن نہیں ہوگا۔
کچھ ناقدین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ خلائی راکٹوں کے بڑھتے ہوئے استعمال سے زمین کے ماحول اور فضائی تہوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، تاہم اسپیس ایکس نے اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔














