پنجاب میں قائم کیے جانے والے نواز شریف سینٹرز آف ایمیننس کو طلبہ اور والدین کی جانب سے بھرپور پذیرائی مل رہی ہے۔
لاہور میں قائم 65 نواز شریف سینٹرز آف ایمیننس میں داخلوں کے لیے 71 ہزار سے زیادہ طلبہ نے درخواستیں دی ہیں، جبکہ حکومت نے صوبے بھر میں 114 سینٹرز کو 14 اگست تک فعال کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
مزید پڑھیں: پنجاب میں اسکول میل پروگرام کے تحت 90 ہزار بچے اسکول آئے، صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو منصوبے سے متعلق دی گئی بریفنگ میں بتایا گیا کہ ستمبر تک 300 نواز شریف سینٹرز آف ایمیننس مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔
FREE WORLD-CLASS EDUCATION!
Nawaz Sharif Centers of Eminence offer international standard education with zero fees for families earning under RS. 200,000 per month. pic.twitter.com/yEF91Yv9jB
— PMLN (@pmln_org) July 11, 2026
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ایسے والدین جن کی ماہانہ آمدن 2 لاکھ روپے تک ہے، ان کے بچوں سے کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔
بریفنگ کے مطابق ہر کلاس میں 30 طلبہ کو داخلہ دیا جائے گا، اداروں میں اعلیٰ معیار کے اساتذہ تعینات کیے جائیں گے اور معیاری تعلیم فراہم کی جائے گی۔
’اس کے علاوہ مکمل فیس ادا کرنے کی استطاعت رکھنے والے طلبہ کے لیے بھی 10 فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔‘
اس موقع پر وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہاکہ سرکاری اسکولوں کے داخلہ ٹیسٹ میں طلبہ کی بڑی تعداد میں شرکت خوش آئند ہے اور یہ سرکاری تعلیمی اداروں پر عوام کے بڑھتے ہوئے اعتماد کا مظہر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ معیاری تعلیم کے حوالے سے نواز شریف سینٹرز آف ایمیننس ایک نئی شناخت بن چکے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ حکومت کی خواہش ہے کہ پنجاب کے ہر ڈویژن، ہر ضلع اور ہر تحصیل میں نواز شریف سینٹرز آف ایمیننس قائم کیے جائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ طلبہ کو معیاری تعلیمی سہولیات میسر آ سکیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہاکہ نواز شریف سینٹرز آف ایمیننس ان کے دل کے بہت قریب منصوبہ ہے، اور اس کی کامیابی پر وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتی ہیں۔
مزید پڑھیں: محکمہ تعلیم پنجاب کا بڑا فیصلہ، اساتذہ کا کنوینس الاؤنس برقرار رکھنے کی ہدایت
واضح رہے کہ نواز شریف سینٹر آف ایمیننس پنجاب حکومت کا ایک خصوصی تعلیمی منصوبہ ہے، جس کا مقصد سرکاری شعبے میں ایسے ماڈل اسکول قائم کرنا ہے جہاں ذہین اور باصلاحیت طلبہ کو اعلیٰ معیار کی تعلیم جدید سہولتوں کے ساتھ فراہم کی جائے۔












