پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا کہنا ہے کہ صوبے میں اسکول میل پروگرام کے تحت اب تک 90 ہزار بچے اسکولوں میں داخل ہوئے ہیں اور مزید بچوں کو بھی دوبارہ تعلیم کی طرف راغب کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا مجموعی تعلیمی بجٹ 2311 ارب روپے مقرر، بلوچستان فی کس بجٹ میں پنجاب سے تقریباً دُگنا آگے
وی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے رانا سکندر حیات نے کہا کہ ان کے اندازے کے مطابق پنجاب میں اب بھی 60 لاکھ بچے اسکول نہیں جا رہے تاہم حکومت ان بچوں کو تعلیم کے دائرے میں لانے کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے اور آئندہ 5 برسوں میں ان بچوں میں سے کم از کم 50 فیصد کو اسکولوں میں داخل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
رانا سکندر حیات نے بتایا کہ جب انہوں نے وزارت تعلیم کا منصب سنبھالا تو پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن (پیف) کے تحت 22 لاکھ بچے زیرِ تعلیم تھے جبکہ اب یہ تعداد بڑھ کر 40 لاکھ سے زائد ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 20 ہزار روپے تنخواہ لینے والے بعض اساتذہ کے نتائج ایک لاکھ روپے تنخواہ لینے والے اساتذہ سے بھی بہتر ہیں جس پر وہ داد کے مستحق ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت اب اس بات پر غور کر رہی ہے کہ فی طالب علم 1200 روپے حاصل کرنے والے اساتذہ کا معاوضہ بڑھا کر 2000 یا 2500 روپے فی طالب علم کیا جائے تاکہ ان کی ماہانہ آمدن 40 ہزار روپے سے زائد ہو سکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پیف کے تحت اساتذہ کو تنخواہیں آئندہ بینکوں کے ذریعے ادا کی جائیں گی۔ ان کے بقول، اگر 20 ہزار روپے تنخواہ لینے والا استاد بہترین کارکردگی دکھا رہا ہے تو وہ ستارۂ امتیاز کا مستحق ہے۔
احمد رضا ڈار کیس میں وزیراعلیٰ نے 100 فیصد شفافیت دکھائی
احمد رضا ڈار کے معاملے پر بات کرتے ہوئے رانا سکندر حیات نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس کیس میں ذرا برابر بھی مداخلت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے بھی اپنی تمام فیصلہ سازی سے متعلق خود آگاہ کیا ہے۔
مزید پڑھیے: ’پیف‘ اسکولوں کے نتائج سرکاری اداروں سے بہتر ہیں، وزیر تعلیم پنجاب کا اساتذہ کے لیے بڑا اعلان
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی اس معاملے پر زیرو ٹالرنس پالیسی ہے جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور مشیر وزیراعلیٰ علی ڈار بھی اس کیس پر کسی بھی لحاظ سے اثرانداز نہیں ہو رہے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ اگر کسی شخص کے رشتہ دار نے کوئی غلط کام کیا ہے تو اس کی بنیاد پر دوسرے افراد کو بدنام نہیں کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار نے پاکستان کے لیے اہم خدمات انجام دی ہیں تاہم اگر کسی کے رشتہ دار نے قانون شکنی کی ہے تو اسے نہ صرف سزا ملنی چاہیے بلکہ ایسی سزا مثال بننی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہراسگی اور خواتین سے متعلق معاملات پر زیرو ٹالرنس پالیسی ہے اور اس پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔
والدین صرف انہی ٹیوشن سینٹرز کا انتخاب کریں جن کے پاس بلڈنگ فٹنس سرٹیفکیٹ ہو
مزید پڑھیں: پنجاب کا بلوچستان کے طلبا کے لیے 470 وظائف کا اعلان، تعلیمی مواقع میں اضافہ
ایک سوال کے جواب میں رانا سکندر حیات نے بتایا کہ لاہور میں 750 ایسی اکیڈمیوں کی نشاندہی کی گئی تھی جن کی عمارتوں کی حالت تسلی بخش نہیں تھی جنہیں نوٹسز جاری کیے گئے ہیں تاہم ابھی تک کسی اکیڈمی کو بند نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کے تمام اضلاع میں تعلیمی اداروں کی عمارتوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ گھروں میں قائم ٹیوشن سینٹرز پر پابندی نہیں لگائی گئی اور جو نئے گھر باقاعدہ منظور شدہ نقشوں کے مطابق تعمیر کیے گئے ہیں ان کے لیے بلڈنگ فٹنس سرٹیفکیٹ لازمی نہیں تاہم جن اداروں کے پاس یہ سرٹیفکیٹ موجود نہیں وہ اسے حاصل کریں اور آن لائن درخواست دے کر محکمہ تعلیم کو جمع کرائیں۔
’میں نے کسی استاد کو چور نہیں کہا‘
ایک اور سوال کے جواب میں صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن میں اساتذہ کے خلاف تقریباً 100 شکایات موصول ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں تقریباً 3 لاکھ اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں جن میں سے 80 فیصد اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں جبکہ 20 فیصد اساتذہ کی کارکردگی تسلی بخش نہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب میں اے آئی نصاب متعارف کروانے کی تیاری، پہلی جماعت سے تعلیم دینے پر غور
رانا سکندر حیات نے کہا کہ اسی لیے محکمہ تعلیم میں سزا اور جزا کا نظام ہونا چاہیے۔ ان کے بقول انہوں نے کبھی کسی استاد کو چور نہیں کہا بلکہ صرف نظام میں موجود ان کالی بھیڑوں کی نشاندہی کی ہے جن کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے غریب بچوں کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔












