بلال بن ثاقب کی مفتی تقی عثمانی سے اہم ملاقات، ڈیجیٹل اثاثوں کی شرعی حیثیت پر تبادلہ خیال

ہفتہ 11 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان ورچوئل ایسیٹس ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ انہوں نے ممتاز اسلامی اسکالر مفتی تقی عثمانی سے ملاقات کی ہے، جس میں ڈیجیٹل اثاثوں اور ان کی شرعی حیثیت سے متعلق جاری مباحثے پر تعمیری گفتگو ہوئی۔

’ایکس‘ پر ایک بیان میں بلال بن ثاقب نے کہاکہ ہم دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ پاکستانی عوام کو فراڈ، استحصال اور مالی نقصان سے محفوظ رکھا جائے۔

انہوں نے کہاکہ ملاقات کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ بلاک چین، ڈیجیٹل اثاثے، اسٹیبل کوائنز اور حقیقی دنیا کے اثاثوں پر مبنی ٹوکنائزڈ اثاثے مختلف نوعیت کی ٹیکنالوجیز اور استعمال کے طریقوں پر مشتمل ہیں، لہٰذا انہیں ایک ہی زاویے سے دیکھنے کے بجائے تکنیکی اور شرعی دونوں پہلوؤں سے باریک بینی سے جانچنے کی ضرورت ہے۔

بلال بن ثاقب کا کہنا تھا کہ اس شعبے میں مسلسل پیشرفت ہو رہی ہے، اس لیے وہ امید رکھتے ہیں کہ معزز علمائے کرام، متعلقہ ریگولیٹرز اور صنعت سے وابستہ ماہرین کے درمیان مسلسل مشاورت جاری رہے گی تاکہ پاکستان کی پالیسی اسلامی اصولوں کے ساتھ ساتھ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کی جامع سمجھ بوجھ کی بنیاد پر تشکیل دی جا سکے۔

واضح رہے کہ حال ہی میں وفاق المدارس العربیہ کے صدر مفتی تقی عثمانی کا کرپٹو کرنسی کے حوالے ایک فتویٰ سامنے آیا ہے، جس پر بحث جاری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹری کا دورہ، دفاعی پیداوار اور خود انحصاری پر بریفنگ

بھارت سندھ طاس معاہدے سے یکطرفہ طور پر نہیں نکل سکتا، پاکستانی سفیر کا بھارتی سفیر کو کرارا جواب

افغانستان میں بھوک، خشک سالی اور بے گھری سے ذہنی صحت کو سنگین خطرات، اقوام متحدہ

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں