بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) ایک بار پھر قومی سطح پر بحث کا مرکز بن گیا ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ کے اس بیان کے بعد کہ ’بی آئی ایس پی لوگوں کو بھکاری بنانے کے سوا کوئی مقصد پورا نہیں کررہا‘، پروگرام کی افادیت، مستقبل اور غربت کے خاتمے کے مؤثر طریقہ کار پر مختلف حلقوں میں نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔
دوسری جانب بی آئی ایس پی کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے اس بیان کو مستحق خاندانوں کی دل آزاری قرار دیتے ہوئے کہاکہ ایسے ریمارکس لاکھوں مستحق افراد کی عزتِ نفس کو مجروح کرتے ہیں اور ان پر معذرت کی جانی چاہیے۔
مزید پڑھیں: بی آئی ایس پی سے متعلق رانا ثنااللہ کا بیان، پیپلز پارٹی نے معافی مانگنے کا مطالبہ کردیا
رانا ثنااللہ کا مؤقف ہے کہ ریاست کی ذمہ داری صرف مالی امداد فراہم کرنا نہیں بلکہ شہریوں کو معاشی طور پر خود مختار بنانا بھی ہے۔ ان کے مطابق اگر ایک خاندان برسوں تک صرف سرکاری امداد پر انحصار کرتا رہے تو غربت کا مستقل خاتمہ ممکن نہیں ہو سکتا۔
ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو امدادی پروگراموں کو فنی تربیت، ہنر مندی، چھوٹے کاروبار، مائیکرو فنانس اور روزگار کے مواقع سے منسلک کرنا چاہیے تاکہ مستحق افراد باعزت روزگار حاصل کر کے مستقل طور پر غربت کے دائرے سے نکل سکیں۔
دوسری جانب سینیٹر روبینہ خالد کا کہنا ہے کہ بی آئی ایس پی پاکستان کے سب سے بڑے سماجی تحفظ کے پروگراموں میں سے ایک ہے، جس نے مہنگائی، بے روزگاری، قدرتی آفات اور معاشی مشکلات کے دوران لاکھوں کم آمدن والے خاندانوں کو سہارا دیا ہے۔
ان کے مطابق یہ پروگرام کسی پر احسان نہیں بلکہ ریاست کی سماجی ذمہ داری ہے، جبکہ خواتین کو براہِ راست مالی معاونت فراہم کر کے انہیں معاشی طور پر بااختیار بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا گیا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق دونوں مؤقف اپنی اپنی جگہ اہم ہیں۔ ایک طرف ایسے خاندان موجود ہیں جو شدید غربت کے باعث فوری مالی امداد کے بغیر اپنی بنیادی ضروریات بھی پوری نہیں کر سکتے، جبکہ دوسری جانب یہ حقیقت بھی تسلیم کی جاتی ہے کہ صرف نقد امداد غربت کے مستقل خاتمے کی ضمانت نہیں بن سکتی۔
’اگر مستحق افراد کو جدید ہنر، تکنیکی تعلیم، کاروباری معاونت اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ مستقبل میں حکومتی امداد کے محتاج رہنے کے بجائے خود کفیل بن سکتے ہیں۔‘
ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے متعدد ممالک میں سماجی تحفظ کے پروگراموں کو ہنر مندی اور روزگار سے جوڑ کر بہتر نتائج حاصل کیے گئے ہیں۔
ان کے مطابق مالی امداد کو ایک عارضی سہارا سمجھتے ہوئے اس کے ساتھ فنی تربیت اور روزگار کی حکمت عملی اختیار کی جائے تو نہ صرف حکومتی مالی بوجھ میں کمی آ سکتی ہے بلکہ ملک کو ہنر مند افرادی قوت بھی میسر آ سکتی ہے، جو معیشت کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں سماجی تحفظ ناگزیر ہے، تاہم طویل المدتی کامیابی اسی صورت ممکن ہے جب امدادی پروگراموں کو خود انحصاری، ہنر مندی اور باعزت روزگار کے ساتھ مربوط کیا جائے۔
مزید پڑھیں: کیا بینظیر انکم سپورٹ پروگرام لوگوں کی غُربت دور کر پا رہا ہے؟
ان کے نزدیک غربت کے خلاف مؤثر جنگ صرف مالی امداد سے نہیں بلکہ ایسے نظام سے جیتی جا سکتی ہے جو ضرورت مند افراد کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا موقع فراہم کرے۔ یہی ماڈل ایک فلاحی ریاست کے ساتھ ساتھ ایک ہنر مند اور خود کفیل پاکستان کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔













