فیفا ورلڈ کپ 2026 میں افریقی ٹیموں کی مجموعی شاندار کارکردگی نے ٹورنامنٹ میں براعظم افریقہ سے ٹیموں کو زیادہ نمائندگی دینے کے فیصلے کو درست ثابت کر دیا۔ 10 میں سے 9 افریقی ٹیموں نے ناک آؤٹ مرحلے تک رسائی حاصل کی، جسے فیفا کے تمام خطوں میں کامیابی کا بہترین تناسب قرار دیا جا رہا ہے۔
افریقی ٹیموں کی نمایاں پیش رفت
48 ٹیموں پر مشتمل توسیع شدہ ورلڈ کپ میں افریقہ کی ٹیموں کی براہ راست شمولیت 5 سے بڑھا کر 9 کر دی گئی تھی، جبکہ جمہوریہ کانگو نے بین البراعظمی پلے آف جیت کر مجموعی تعداد 10 کر دی۔ صرف تیونس کی ٹیم پہلے مرحلے سے باہر ہوئی، جبکہ دیگر 9 ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچنے میں کامیاب رہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ورلڈ بینک کے صدر سے پاکستانی سفیر کی ملاقات، فیفا ورلڈ کپ 2026 کا آفیشل فٹبال ’ ٹرائی اونڈا‘ تحفے میں پیش
اعداد و شمار کے مطابق افریقی ٹیموں کی کامیابی کی شرح 90 فیصد رہی، جو جنوبی امریکا، یورپ اور ایشیا سے بھی بہتر تھی۔
مراکش نے ایک اور تاریخ رقم کر دی
مراکش ایک بار پھر کوارٹر فائنل تک رسائی حاصل کرنے والی پہلی افریقی ٹیم بن گئی، تاہم آخری 8 کے مرحلے میں اسے فرانس کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
مراکش کے کوچ محمد اوہبی نے شکست کے بعد فرانس کی مضبوط ٹیم کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی ٹیم میں غیر معمولی صلاحیت موجود ہے۔
مصر اور سینیگال کو مایوسی
مصر کو ارجنٹینا کے خلاف 2 گول کی برتری کے باوجود 3-2 سے شکست ہوئی، جس کے بعد مصری کوچ حسام حسن نے میچ آفیشلز پر بالواسطہ دباؤ کا الزام عائد کیا، تاہم فیفا کے چیف آف ریفریز پیئرلوئیجی کولینا نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ریفریز ہمیشہ دیانت داری سے فیصلے کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں:کرسٹیانو رونالڈو پرتگال کو فیفا ورلڈ کپ کیوں نہ جتوا سکے؟
دوسری جانب سینیگال بھی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔ بیلجیم کے خلاف 2 گول کی برتری گنوانے کے بعد ٹیم اضافی وقت میں شکست کھا گئی، جبکہ بعد ازاں ٹیم کے اندر اختلافات کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
ادھر سابق فرانسیسی اسٹار تھیری ہنری نے کہا کہ افریقی ٹیمیں برتری حاصل کرنے کے بعد اپنی توجہ برقرار نہیں رکھ پاتیں، جبکہ سابق سویڈش اسٹرائیکر زلاتان ابراہیمووچ کے مطابق کئی افریقی ٹیمیں جیتی ہوئی بازی ہار گئیں، جو بدقسمتی نہیں بلکہ کمزور حکمت عملی کا نتیجہ تھا۔
کیپ وردے نے بھی سب کو متاثر کیا
اگرچہ کیپ وردے ناک آؤٹ مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکا، تاہم اس کی جرات مندانہ کارکردگی نے شائقین کو خوب متاثر کیا۔ اسپین کے خلاف بغیر گول کے ڈرا اور ارجنٹینا کے خلاف سخت مقابلے نے اس چھوٹے افریقی ملک کو عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنا دیا، جبکہ تجربہ کار گول کیپر ووزینیا کی شاندار کارکردگی بھی نمایاں رہی۔













