کبھی کبھی تاریخ کسی کھلاڑی کو سب کچھ دیتی ہے، مگر ایک ٹرافی اپنے پاس رکھ لیتی ہے۔
فٹبال کی دنیا میں ایسے بہت کم نام ہیں جنہوں نے اپنی محنت، صلاحیت اورعزم سے کھیل کی تعریف بدل دی ہو۔ کرسٹیانو رونالڈو انہی چند ناموں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے گول کیے، ریکارڈ توڑے، انگلینڈ، اسپین اور اٹلی کی لیگز میں شاندار کامیابیاں حاصل کیں، 5 مرتبہ بیلن ڈی اور کا اعزاز حاصل کیا، قومی ٹیم کو یورپی چیمپیئن بنایا، مگر ایک خواب ان کی پوری زندگی کے ساتھ چلتا رہا؛ فیفا ورلڈ کپ۔
یہ کہانی شاید مڈیرا کے ایک چھوٹے سے اسکول سے شروع ہوتی ہے۔ روایت ہے کہ ایک دن 9 سالہ رونالڈو فٹبال ہاتھ میں لیے کلاس میں دیر سے پہنچے۔ استاد نے ناراضی سے پوچھا، ’دیر کیوں ہوئی؟‘
معصوم جواب تھا، ’فٹبال کھیل رہا تھا۔‘
استاد نے گیند کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، ’یہ فٹبال تمہیں کچھ نہیں دے گی، زندگی میں جو ملے گا، اسی کلاس سے ملے گا۔‘
وقت نے ثابت کیا کہ استاد کی بات پوری طرح درست بھی نہ تھی اور مکمل غلط بھی نہیں۔ اسی فٹبال نے ایک غریب بچے کو دنیا کا عظیم ترین کھلاڑی بنا دیا، لیکن شاید زندگی کا سب سے بڑا سبق اسے اسی کھیل نے دیا کہ ہر عظمت کے باوجود ہر خواب پورا نہیں ہوتا۔
رونالڈو نے جب مانچسٹر یونائیٹڈ کی سرخ جرسی پہنی تو دنیا نے ایک ستارے کا طلوع دیکھا۔ پھر ریال میڈرڈ میں وہ ایک عہد بن گئے۔ گول ان کی پہچان بن گئے، ریکارڈ ان کے تعاقب میں رہنے لگے اور دنیا انہیں ’گول مشین‘ کہنے لگی۔
لیکن قومی ٹیم کا فٹبال کلب فٹبال سے مختلف ہوتا ہے۔
یہاں آپ اپنی پسند کے ساتھی نہیں چنتے، نہ مہنگے ترین کھلاڑی خرید سکتے ہیں۔ یہاں قسمت آپ کو وہی لشکر دیتی ہے جس کے ساتھ آپ کو جنگ لڑنی ہوتی ہے۔
رونالڈو کے کیریئر کی ایک حقیقت یہ بھی رہی کہ انہیں ہر دور میں ایسی متوازن قومی ٹیم میسر نہیں آئی جو ورلڈ کپ جیتنے کی مضبوط امیدوار سمجھی جاتی۔
پرتگال کبھی برازیل، جرمنی، فرانس یا ارجنٹینا جیسی وسیع فٹبال طاقت نہیں رہا۔ اس کے پاس ہمیشہ چند غیرمعمولی کھلاڑی ضرور آئے، مگر ایسی متوازن ٹیم کم ہی بنی جو پورا ورلڈ کپ اپنے نام کر سکے۔
2006 میں پرتگال سیمی فائنل تک پہنچا، مگر فرانس کے سامنے رک گیا۔
2010 میں اسپین کی ناقابلِ شکست ٹیم راستے میں آگئی۔
2014 میں رونالڈو زخمی تھے اور ٹیم گروپ مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکی۔
2018 میں یوراگوئے نے سفر ختم کر دیا۔
2022 میں مراکش نے تاریخ رقم کی اور پرتگال ایک بار پھر خواب کی دہلیز سے لوٹ آیا۔
2026 میں بھی 2010 کی طرح اسپین نے امیدیں توڑ دیں۔
یوں رونالڈو 6 ورلڈ کپ کھیل کر بھی اس ٹرافی کو نہ چھو سکے جس کے لیے ہر عظیم کھلاڑی عمر بھر انتظار کرتا ہے۔
کیا اس ناکامی کی ذمہ داری صرف رونالڈو پر ڈالی جا سکتی ہے؟
شاید نہیں۔
تاریخ یہ ضرور بتاتی ہے کہ بڑے سپہ سالار جنگ جتواتے ہیں، مگر تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ سپہ سالار اکیلا جنگ نہیں جیتتا۔
ڈیاگو میراڈونا کے ساتھ بھی ایک منظم ٹیم موجود تھی، لیکن 1986 کے عالمی کپ میں ان کی غیرمعمولی انفرادی کارکردگی بھی فیصلہ کن ثابت ہوئی۔
زین الدین زیدان کے ساتھ فرانس کی سنہری نسل موجود تھی۔
لیونل میسی کو بھی ورلڈ کپ جیتنے کے لیے 4 ناکام کوششوں اور ایک مکمل ٹیم کا انتظار کرنا پڑا۔
رونالڈو نے بھی اپنی حد تک کبھی کمی نہیں چھوڑی۔ انہوں نے پرتگال کے لیے 146 بین الاقوامی اور 11 فیفا ورلڈ کپ گول کیے (2026 میں وہ 6 مختلف ورلڈ کپ ایڈیشنز میں گول کرنے والے پہلے کھلاڑی بنے)۔ یورو 2016 جتوایا، نیشنز لیگ جیتی اور ہر بڑے ٹورنامنٹ میں قیادت کی۔
لیکن ورلڈ کپ صرف ایک سپر اسٹار سے نہیں جیتا جاتا۔
یہ 11 کھلاڑیوں، مضبوط دفاع، بہترین مڈفیلڈ، درست حکمتِ عملی، اچھی قسمت اور بعض اوقات ایک لمحے کے فیصلے کا کھیل بھی ہے۔
فٹبال میں کبھی گیند پوسٹ سے ٹکرا کر باہر نکل جاتی ہے اور کبھی وہی گیند اندر جا کر تاریخ لکھ دیتی ہے۔
رونالڈو کی کہانی دراصل ایک ایسے فاتح کی کہانی ہے جس نے قریباً سب کچھ جیت لیا، سوائے اس ایک خواب کے جس نے اسے ہمیشہ بے چین رکھا۔ شاید اسی لیے عظیم کھلاڑیوں کا فیصلہ صرف ٹرافیاں نہیں کرتیں۔
اگر ایسا ہوتا تو ہالینڈ (نیدرلینڈز) کے یوان کروئف (Johan Cruyff)، ہنگری کے فیرینس پُشکاش (Ferenc Puskás) اور اٹلی کے پاؤلو مالدینی (Paolo Maldini) جیسے لیجنڈز تاریخ کے صفحات میں اتنی عزت نہ پاتے۔
کرسٹیانو رونالڈو بھی انہی عظیم ناموں میں شامل ہیں۔
انہوں نے ورلڈ کپ نہیں جیتا، مگر کروڑوں نوجوانوں کو یہ یقین ضرور دیا کہ خواب غربت، حالات اور ناممکنات سے بڑے ہوتے ہیں۔ اور شاید تاریخ ان کے بارے میں یہی لکھے گی کہ ۔ ۔ ۔ ۔
وہ ہارا ہوا سپاہی نہیں تھا، بلکہ ایسا سپہ سالار تھا جس نے اپنی پوری طاقت سے جنگ لڑی، مگر قسمت نے فتح کا تاج کسی اور کے سر رکھ دیا۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔














