ٹرمپ انتظامیہ نے ہیٹی سمیت 7 ممالک کے تارکین وطن کے ورک پرمٹس میں عارضی توسیع کردی

ہفتہ 11 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ہیٹی سمیت 7 ممالک کے عارضی تحفظ کے حامل لاکھوں تارکین وطن کے ورک پرمٹس میں آخری وقت پر عارضی توسیع کردی، جو چند گھنٹوں بعد ختم ہونے والے تھے۔

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ذیلی ادارے امریکی شہریت و امیگریشن سروسز کے مطابق عارضی تحفظ کے حامل ہیٹی کے شہریوں کے ورک پرمٹس اب 24 جولائی تک مؤثر رہیں گے۔

مزید پڑھیں: امریکا میں تارکینِ وطن کے خلاف کریک ڈاؤن تیز، 5 روز میں 10 ہزار سے زائد گرفتار

اسی طرح ایتھوپیا، شام، صومالیہ، یمن، جنوبی سوڈان اور میانمار سے تعلق رکھنے والے افراد کے ورک پرمٹس میں بھی توسیع کی گئی ہے، تاہم ان کی مدت ایک ہفتے بعد ختم ہوگی۔

گزشتہ ماہ امریکی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ ہیٹی اور شام کے شہریوں کے لیے عارضی تحفظ کی حیثیت ختم کر سکتی ہے، جس کے بعد ہزاروں تارکین وطن کے مستقبل کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے تھے۔

ٹیمپریری پروٹیکٹڈ اسٹیٹس ایک ایسا پروگرام ہے جس کے تحت ان ممالک کے شہری جہاں جنگ، قدرتی آفات یا دیگر غیر معمولی حالات ہوں، امریکا میں قانونی طور پر قیام اور ملازمت جاری رکھ سکتے ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور تارکین وطن کے نمائندوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد لاکھوں افراد اپنے قانونی ورک پرمٹس اور ملک بدری سے حاصل تحفظ سے محروم ہو سکتے ہیں۔

مزدور تنظیموں نے بھی ورک پرمٹس میں توسیع کا مطالبہ کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اگر یہ اجازت نامے اچانک ختم کر دیے گئے تو مختلف شعبوں میں افرادی قوت کا بحران پیدا ہوگا، کام کی جگہوں پر افراتفری پھیلے گی اور اہم صنعتیں متاثر ہوں گی۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی حکومت کے دوران غیر قانونی امیگریشن کے خلاف سخت کریک ڈاؤن اور ملک بدری کی مہم جاری رکھی ہے، جسے انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں نے آزادی اظہار، قانونی حقوق اور منصفانہ عدالتی عمل کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ سخت امیگریشن پالیسیوں نے نسلی اقلیتوں کے لیے غیر محفوظ ماحول پیدا کیا ہے اور نسلی امتیاز کی بنیاد پر جانچ پڑتال کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

ٹرمپ نے 2024 کی انتخابی مہم میں غیر قانونی امیگریشن روکنے کو اپنی اہم ترجیح قرار دیا تھا، تاہم ان کی انتظامیہ نے قانونی امیگریشن کے عمل کو بھی مزید سخت بنا دیا۔ اس مقصد کے لیے بعض ویزا درخواستوں پر نئی اور مہنگی فیسیں عائد کی گئیں، جبکہ درخواست گزاروں اور امریکا میں مقیم بعض تارکین وطن کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کا عمل بھی سخت کیا گیا۔

مزید پڑھیں: امریکا میں غیرقانونی تارکین وطن کیخلاف مہم میں گرفتار 5 سالہ بچے کی رہائی کا حکم

ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کا مقصد امریکا کی داخلی سلامتی کو مضبوط بنانا اور امریکی شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

میٹا پر طبی مسائل کے شکار ملازمین کو برطرفیوں میں نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کا الزام

حکومت نے ہمیشہ مذاکرات کا راستہ اپنایا، تشدد ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیا گیا، طارق فضل چوہدری

ذہنی تھکن سے پریشان ہیں؟ صدیوں پرانے طریقے آج بھی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں

اداروں اور شہدا سے متعلق استعمال کیے گئے الفاظ ناقابل قبول، مولانا فضل الرحمان معافی مانگیں : حافظ میاں محمد نعمان

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!

ہم چین سے کیا سیکھ سکتے ہیں؟