سندھ ہائیکورٹ نے نائلہ رند خودکشی کیس میں عمر قید پانیوالے ملزم کو بری کر دیا

پیر 13 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سندھ ہائیکورٹ نے پیر کے روز 2017 میں سندھ یونیورسٹی کی طالبہ نائلہ رند کی خودکشی کے مقدمے میں عمر قید کی سزا پانے والے ملزم انیس خاصخیلی کو بری کر دیا۔

نائلہ رند کی لاش یکم جنوری 2017 کو جامشورو میں واقع سندھ یونیورسٹی کے ماروی ہاسٹل کے اپنے کمرے میں پنکھے سے لٹکی ہوئی ملی تھی۔ وہ سندھی شعبے کی آخری سال کی طالبہ تھیں۔

واقعے کے چند روز بعد پولیس نے نائلہ کے موبائل فون سے حاصل ہونے والے ریکارڈ کی بنیاد پر، جس میں دونوں کے درمیان مسلسل رابطوں کا انکشاف ہوا تھا، نجی اسکول کے استاد انیس خاصخیلی کو گرفتار کر لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: میرپورخاص: میڈیکل طالبہ کی خودکشی، ہراسانی کے الزامات پر انکوائری کا حکم

جنوری 2023 میں انسداد دہشتگردی کی عدالت نے انیس خاصخیلی کو انسداد دہشتگردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 7 اے اور پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ  321 یعنی قتل بالسبب کے تحت عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

عدالت نے انہیں پریوینشن آف الیکٹرونک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2016 کی دفعات 21 بی اور 21 سی کے تحت سائبر اسٹاکنگ کا بھی مرتکب قرار دیا تھا۔

سزا کے خلاف اسی سال انیس خاصخیلی نے سندھ ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ پیر کو سندھ ہائیکورٹ کے 2 رکنی بینچ نے اپیل کا فیصلہ سناتے ہوئے سزا کالعدم قرار دیدی۔

مزید پڑھیں: میڈیکل طالبہ کی مبینہ خودکشی کیس میں اہم پیشرفت، مرکزی ملزم 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

فیصلہ جسٹس عمر سیال نے تحریر کیا، جبکہ مقدمے کی سماعت پہلے حیدرآباد بینچ اور بعد ازاں چیف جسٹس کی اجازت سے پرنسپل سیٹ پر مکمل کی گئی۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت جرم ثابت نہیں ہو سکا، عدالت کے مطابق تصاویر کی تشہیر یا عوامی سطح پر نمائش کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا اور نہ ہی بلیک میلنگ ثابت ہو سکی۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ملزم کی جانب سے کسی بھی غیر قانونی فعل کا ارتکاب ثابت نہیں ہوا، جبکہ استغاثہ اپنے الزامات کو معقول شک سے بالاتر ہو کر ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

مزید پڑھیں: غیرت کے نام پر قتل، زمانہ جاہلیت کا راستہ

ملزم کی جانب سے وکلا وقار سیال، ذیشان اور محمد فہیم پیش ہوئے، جبکہ مقتولہ کے بھائی نثار احمد کی جانب سے، جنہوں نے نجی وکیل کی خدمات حاصل نہیں کیں، ایڈیشنل پروسیکیوٹر جنرل نذر میمن نے دلائل دیے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی نشاندہی کی کہ تفتیشی افسر نے استغاثہ کے انحصار کردہ دستاویزات کی صرف فوٹو کاپیاں پیش کیں، اور قرار دیا کہ ماتحت عدالتوں پر لازم ہے کہ ثانوی شہادت کو قابل قبول قرار دینے کی وجوہات واضح کریں۔

عدالتی حکم میں مزید کہا گیا کہ عدالت نے ثانوی شہادت کی قانونی حیثیت پر کوئی حتمی رائے نہیں دی، کیونکہ اگر اسے قابل قبول بھی مان لیا جائے تو بھی یہ بلیک میلنگ، ہراسانی یا دھمکیوں کے الزامات ثابت کرنے کے لیے ناکافی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp