امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، ایران پر امریکی حملوں اور تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز دوبارہ بند کرنے کے اعلان کے بعد نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، جبکہ اسحاق ڈار نے جون 2026 کی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مطابق کشیدگی میں کمی، تحمل اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے پر زور دیا۔
امریکا اور ایران کے درمیان تازہ فوجی کشیدگی کے بعد مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ امریکی فوج نے ایران پر نئے حملے کیے ہیں، جبکہ تہران نے اعلان کیا ہے کہ امریکی مداخلت کے خاتمے تک آبنائے ہرمز بند رہے گی۔ اس صورتحال کے بعد پاکستان نے سفارتی سطح پر متحرک ہوتے ہوئے ایران سے رابطہ کیا ہے۔
Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar @MIshaqDar50 held a telephone conversation today with His Excellency Seyyed Abbas Araghchi, Foreign Minister of the Islamic Republic of Iran. @araghchi
Both leaders exchanged views on the evolving regional… pic.twitter.com/WuRxnROwwp
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) July 12, 2026
دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ٹیلیفون پر گفتگو کی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور بڑھتی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا۔
یہ بھی پڑھیں:ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کی تو مذاکرات ختم ہو جائیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ
اسحاق ڈار نے اس موقع پر تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ جون 2026 میں طے پانے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے مطابق کشیدگی میں کمی لائیں، تحمل کا مظاہرہ کریں اور تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔ دونوں وزرائے خارجہ نے آئندہ بھی قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
دوسری جانب رائٹرز کے مطابق امریکی فوج نے ایران کی جانب سے ایک کنٹینر بردار جہاز کو نشانہ بنانے کے بعد ایرانی اہداف پر حملے کیے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ حملے کا نشانہ بننے والا قبرص کے پرچم بردار کنٹینر جہاز ایم/وی جی ایف ایس گلیکسی تھا، جس کے انجن روم کو شدید نقصان پہنچا جبکہ عملے کا ایک رکن لاپتا ہے۔ برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی کے مطابق جہاز کا عملہ لائف بوٹس کے ذریعے محفوظ مقام پر منتقل ہو گیا۔
🚨 TRUMP GIVES IRAN AN ULTIMATUM OVER THE STRAIT OF HORMUZ.
According to reports, the Trump administration has given Iran until Saturday to publicly declare that the Strait of Hormuz is open to international shipping and that attacks on commercial vessels will stop.
The message…
— Jim Ferguson (@JimFergusonUK) July 11, 2026
ایران نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز امریکی مداخلت کے خاتمے تک بند رہے گی۔ پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی نئی کارروائی کا سخت جواب دیا جائے گا۔ آبنائے ہرمز دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی کی ترسیل کا اہم راستہ ہے، اس لیے اس کی بندش سے عالمی توانائی منڈی اور خلیجی خطے میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
BREAKING: The U.S. and Iran have entered a new phase of direct confrontation.
Iran's IRGC announced the complete closure of the Strait of Hormuz, declaring that no vessel will be allowed to transit until the United States ends its military interference in the region. The IRGC… pic.twitter.com/f3JNUmuFcX
— The Hormuz Report (@HormuzReport) July 12, 2026
رپورٹس کے مطابق ایران کے سرکاری میڈیا نے متعدد بندرگاہی شہروں میں دھماکوں کی اطلاع دی ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین نے بھی ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں یا ان کے خطرات سے متعلق حفاظتی اقدامات کی تصدیق کی ہے۔ ادھر عمان میں ایرانی اور عمانی حکام کے درمیان آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی اور کشیدگی میں کمی کے لیے تکنیکی اور سیاسی سطح پر مذاکرات بھی جاری ہیں، تاہم اب تک کسی حتمی پیش رفت کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔













