مودی غیر اسکرپٹڈ سوالات سے کیوں گریز کرتے ہیں؟ عالمی میڈیا میں ایک بار پھر بحث

اتوار 12 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی غیر اسکرپٹڈ پریس کانفرنسوں سے مسلسل گریز کی پالیسی ایک بار پھر عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ الجزیرہ کی ایک رپورٹ اور نیوزی لینڈ و آسٹریلیا کے صحافیوں کے سوالات نے اس بحث کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ مودی غیر ملکی دوروں کے دوران آزاد صحافیوں کے سامنے سوال و جواب کی نشستوں سے کیوں اجتناب کرتے ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے غیر ملکی دوروں کے دوران آزادانہ پریس کانفرنس نہ کرنے کے معاملے پر ایک بار پھر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ حالیہ دورے کے دوران نیوزی لینڈ کے صحافیوں نے براہ راست استفسار کیا کہ مودی نے وہاں کے صحافیوں کے سوالات کا سامنا کیوں نہیں کیا۔

رپورٹ کے مطابق آسٹریلیا کے شہر میلبورن میں بھی صحافیوں نے مودی سے سوال کیا کہ وہ ’دنیا کے آزاد ترین میڈیا‘ کے نمائندوں کے سوالات کا جواب کیوں نہیں دیتے۔ تاہم انہیں کوئی جواب نہیں ملا اور وزیراعظم مودی بغیر کسی غیر اسکرپٹڈ میڈیا گفتگو کے اپنی مصروفیات جاری رکھتے رہے۔

الجزیرہ کے مطابق نریندر مودی طویل عرصے سے ایسی عوامی پریس کانفرنسوں سے گریز کرتے آئے ہیں جہاں صحافی بغیر پیشگی تیاری کے سوالات کر سکیں۔ اس کے بجائے وہ زیادہ تر منظم اور پہلے سے طے شدہ تقریبات، تقاریر اور عوامی اجتماعات کو ترجیح دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:نریندر مودی صحافیوں سے کیوں خوفزدہ ہیں؟

رپورٹ میں اس حوالے سے بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا ایک سابقہ مؤقف بھی شامل کیا گیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ نریندر مودی ایک روایتی بھارتی سیاست دان ہیں جو میڈیا کے بجائے براہِ راست عوام سے رابطے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے مطابق بھارت کی بڑی آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے اور وہاں کے لوگ ثالثوں کے ذریعے نہیں بلکہ اپنے رہنماؤں سے براہِ راست رابطہ پسند کرتے ہیں، اسی لیے مودی عوامی اجتماعات کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جمہوری ملک کے سربراہ کی حیثیت سے وزیراعظم کا آزاد میڈیا کے سامنے آکر سوالات کے جواب دینا شفاف طرزِ حکمرانی اور عوامی احتساب کا اہم تقاضا ہے۔ ان کے مطابق غیر اسکرپٹڈ پریس کانفرنسز حکومتی پالیسیوں پر وضاحت اور عوامی اعتماد کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق مودی کا یہ طرزِ عمل ماضی میں بھی بین الاقوامی میڈیا کی تنقید کا باعث بنتا رہا ہے اور حالیہ دورے کے دوران اٹھنے والے سوالات نے اس بحث کو ایک مرتبہ پھر عالمی سطح پر نمایاں کر دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp