پاکستان کی میزبانی میں آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن ’او آئی سی‘ کی خواتین سے متعلق 9 ویں وزارتی کانفرنس اتوار کو اسلام آباد کے جناح کنونشن سینٹر میں تکنیکی سطح کے اجلاسوں کے ساتھ شروع ہو گئی ہے۔
وزارتِ انسانی حقوق کے زیرِ اہتمام منعقدہ اس 2 روزہ کانفرنس کا موضوع ’او آئی سی ممالک میں خواتین کی سماجی، معاشی اور سیاسی خود مختاری، چیلنجز اور آگے کا راستہ‘ رکھا گیا ہے۔
پاکستان نویں او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین کی میزبانی کر رہا ہے، اعظم نذیر تارڑ
او آئی سی کانفرنس کی میزبانی پاکستان کے لیے اعزاز ہے، اعظم نذیر تارڑ
کانفرنس میں 57 رکن ممالک کے نمائندے شریک ہیں، اعظم نذیر تارڑ
مختلف تکنیکی ورکنگ گروپس بھی کانفرنس کا حصہ ہیں، اعظم نذیر… pic.twitter.com/pHm3mT1qLt— PTV News (@PTVNewsOfficial) July 12, 2026
مسلم ممالک کے مندوبین کی بڑی شرکت
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس کانفرنس میں او آئی سی کے 57 رکن ممالک سے تعلق رکھنے والی وزرا، اعلیٰ سرکاری حکام اور نمائندوں سمیت تقریباً 190 مندوبین شرکت کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:او آئی سی کی خواتین سے متعلق وزارتی کانفرنس، اسحاق ڈار کی زیرصدارت اجلاس میں تیاریوں کا جائزہ
کانفرنس کا بنیادی مقصد خواتین کی سماجی، معاشی اور سیاسی شرکت کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ مسلم ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
اجلاس میں خواتین کی تعلیم، صحت، روزگار، کاروبار، مالیاتی خدمات، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل مواقع تک رسائی بڑھانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
اہم سفارشات اور وزیراعظم کا افتتاح
میڈیا رپورٹ کے مطابق اتوار کو تکنیکی ماہرین اور سینیئر حکام نے اجلاس میں ان سفارشات کو حتمی شکل دی جو پیر کو وزراء کے سامنے غور کے لیے پیش کی جائیں گی۔
وزیراعظم شہباز شریف پیر کو اس وزارتی سیشن کا باقاعدہ افتتاح کریں گے، جبکہ وزیرِ قانون و انسانی حقوق اعظم نذیر تارڑ پاکستان کی جانب سے کانفرنس کی صدارت کریں گے۔ کانفرنس میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور وزیرِ آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ بھی شریک ہوں گی۔
’اسلام آباد اعلامیہ‘ اور پاکستان کی صدارت
وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ پاکستان اگلے 2 سال کے لیے مصر سے ’او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین‘ کی صدارت باقاعدہ طور پر سنبھالے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس اعلیٰ سطح کے فورم کو خواتین کو بااختیار بنانے اور ایک جامع معاشرے کی تعمیر کے لیے حکومتی اقدامات کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کرے گا۔
یہ کانفرنس ’اسلام آباد اعلامیہ‘ کی منظوری کے ساتھ ختم ہو گی، جو مسلم ممالک میں خواتین کی ترقی کے لیے ایک مشترکہ فریم ورک فراہم کرے گا۔
عالمی رپورٹس اور پاکستان کی صورتحال
یہ کانفرنس ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب ورلڈ اکنامک فورم ’ڈبلیو ای ایف‘ کی گلوبل جینڈر گیپ رپورٹ 2025ء کے مطابق پاکستان 148 ممالک میں نچلے درجے پر رہا ہے، جس میں صنفی برابری کا تناسب 56.7 فیصد دکھایا گیا ہے۔
اس کے علاوہ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن ‘آئی ایل او’ کے مطابق پاکستان میں ملازمت پیشہ خواتین اپنے مرد ہم منصبوں کے مقابلے میں ماہانہ تقریباً 30 فیصد کم اجرت حاصل کرتی ہیں۔ یہ کانفرنس مسلم ممالک سمیت پاکستان میں بھی خواتین کو مساوی حقوق اور مواقع فراہم کرنے میں نئی جہت پیدا کرے گی۔














