یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے وزیراعظم یولیا سویریڈینکو کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے بعد وزیراعظم اور ان کی کابینہ نے استعفیٰ دے دیا۔ زیلنسکی نے کہا ہے کہ یہ تبدیلیاں ملک کی نئی سیاسی حکمت عملی پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
صدر زیلنسکی نے اتوار کے روز اپنے بیان میں کہا کہ وہ پارلیمنٹ کے تعاون سے یوکرین کی حکومت میں ضروری تبدیلیاں کریں گے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ نئے وزیراعظم کے لیے کس شخصیت کو نامزد کیا جائے گا یا یولیا سویریڈینکو کو حکومت میں کون سی نئی ذمہ داری سونپی جائے گی۔
زیلنسکی نے یہ بھی اعلان کیا کہ وزیراعظم کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہان میں بھی ردوبدل کیا جائے گا، تاہم انہوں نے ان تبدیلیوں کی تفصیلات یا وجوہات بیان نہیں کیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے پیغام میں صدر زیلنسکی نے یولیا سویریڈینکو کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ بطور وزیراعظم نہایت واضح، مستقل مزاج اور مؤثر انداز میں فرائض انجام دیتی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے سویریڈینکو کو یوکرین کے ایک اہم بین الاقوامی شراکت دار کے ساتھ تعلقات کے ایک نئے اور اہم شعبے کی قیادت کی پیشکش کی ہے۔
یولیا سویریڈینکو کون ہیں؟
یولیا سویریڈینکو پیشے کے اعتبار سے ماہر معاشیات ہیں۔ انہیں جولائی 2025 میں وزیراعظم مقرر کیا گیا تھا۔ اس سے قبل وہ ایک سال تک صدر زیلنسکی کے دفتر میں نائب سربراہ کے طور پر خدمات انجام دیتی رہیں، جبکہ اس سے پہلے 4 سال تک نائب وزیراعظم کی حیثیت سے اقتصادی ترقی اور تجارت کے امور کی ذمہ دار تھیں۔
صدر زیلنسکی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں مجوزہ تبدیلیوں کی بھی کوئی واضح وجہ بیان نہیں کی، تاہم یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ ایک سال کے دوران یوکرین کی حکومت کو بدعنوانی کے بڑے اسکینڈلز کا سامنا رہا ہے۔
Ukraine is changing its political strategy. Each priority area of foreign policy will be assigned to a specific person with substantial experience who is capable of implementing what we agree on at the leaders’ level and what the Ukrainian people expect. The most important of… pic.twitter.com/YVdZJu6KUZ
— Volodymyr Zelenskyy / Володимир Зеленський (@ZelenskyyUa) July 12, 2026
حالیہ عرصے میں سامنے آنے والا ’مائیڈاس کیس‘ ملک کے سب سے بڑے کرپشن اسکینڈلز میں شمار کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق اس کیس میں سرکاری جوہری توانائی کمپنی اینرگوایٹم (Energoatom) میں تقریباً 100 ملین ڈالر کی مبینہ کک بیکس (رشوت) اسکیم کا انکشاف ہوا، جس کے باعث صدارتی انتظامیہ کے ایک بااثر سربراہ کو استعفیٰ دینا پڑا۔
یہ اسکینڈل صدر زیلنسکی کے قریبی حلقوں تک بھی پہنچ گیا، جس کے باعث حکومت پر دباؤ بڑھا، خصوصاً ایسے وقت میں جب کیف مغربی اتحادیوں کو یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ اعلیٰ سطح کی بدعنوانی کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یوکرینی حکام نے صدر زیلنسکی کے سابق کاروباری شراکت دار تیمور مندیچ پر اس مبینہ رشوت اسکیم کی قیادت کا الزام عائد کیا ہے۔ اس کے علاوہ زیلنسکی کے سابق چیف آف اسٹاف آندری یرماک کا نام بھی مشتبہ افراد میں شامل کیا گیا ہے۔ تاہم دونوں شخصیات نے اپنے خلاف عائد تمام الزامات کی تردید کی ہے۔













